لاہور، فیصلہ آنے کے بعد پتا چلے گا کہ کونسا فریق چیلنج کرتا ہے، شیغان اعجاز
اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل کرکٹر شرجیل خان کے کیس کی ٹریبیونل میں سماعت
مکمل ہوگئی، فریقین نے حتمی دلائل پیش کیے، 29 جولائی کو ہونے والی سماعت
میں بھی فریقین تحریری دلائل جمع کروائیں گے جس کے 30 دن بعد ٹرییبونل اپنا
فیصلہ سنائے گا۔
شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجاز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مطمئن
ہیں کہ ہم نے بہتر دلائل دیئے، پی سی بی کے وکلاء سے کوئی شکایت نہیں ہے،
آج ہم نے شہادتوں سے ثابت کردیا کہ ہمارا کیس مضبوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ رونی فلینگن، سلمان نصیر اور عمر امین نے کرنل (ر) اعظم
کا بیان پڑھنے کے بعد ٹریبیونل میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے جبکہ برطانوی
ایجنسی کے نمائندہ اینڈریو افگریو نے رونی فلینگن کا بیان دیکھنے کے بعد
ہی اپنا بیان دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ ڈین جونز نے کہا تھا کہ اہم
بات یہ ہے کہ اسٹرائیک ریٹ بہتر تھا تو کیا غیر ضروری شاٹ کھیلنے کی ضرورت
تھی۔
شیغان اعجاز نے کہا کہ ہم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ بکی کے رابطے پر شرجیل
خان پی سی بی حکام کو آگاہ کرنے میں ناکام رہے، فیصلہ آنے کے بعد پتا چلے
گا کہ کونسا فریق چیلنج کرتا ہے۔