واشنگٹن، امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو نسل کش قرار دینے کی قرارداد منظور
http://www.tnnasia.tv
امریکا کے ایوان نمائندگان نے سرکاری سطح پر سلطنت عثمانیہ کو نوے کی دہائی کے آغاز سے وسط تک آرمینیائی قوم کی نسل کشی کا مرتکب قرار دے دیا ہے جب کہ کردوں کے خلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں 1915 سے 1923 کے درمیان 15 لاکھ سے زائد آرمینیائی مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام پر سلطنت عثمانیہ کو مرتکب ٹھہرانے کے لیے قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں 405 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں صرف 11 ووٹ آئے، علاوہ ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے کردوں کیخلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو آرمینیائیوں کی نسل کشی پر ترکی کی مذمت سے متعلق قرارداد پیش کرنے کے لیے 19 برس سے کوششیں جاری تھیں جو کسی نہ کسی مرحلے پر دم توڑ جاتی تھیں تاہم اس بار نہ صرف قرار داد پیش ہوئی بلکہ اسے تالیوں کی گونج میں کثرت رائے سے منظور بھی کرلیا گیا۔
سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں لاکھوں آمینیائی باشندوں کی ہلاکت کو 30 ممالک سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہیں جس میں نیا اضافہ امریکا ہے تاہم ترکی اس الزام کو مسترد کرتے آیا ہے۔ ترکی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قراداد پر شدید ردعمل دیا ہے اور جلد ہی صدر طیب اردگان آرمینیائی نسل کشی اور پابندیوں پر پالیسی بیان جاری کریں گے۔
یاد رہے کہ مغربی ممالک 1915 سے 1923 تک آرمینیا میں سلطنت عثمانیہ پر لاکھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کا الزام دھرتے ہیں تاہم ترکی کا موقف ہے کہ آرمینیائی قوم نے پہلے آذری مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں آذر بائیجان ہجرت پر مجبور کیا جس کے بعد آرمینیائی ترکی کے علاقوں پر قابض ہونے کی کوشش کی۔ جنگ عظیم اول میں ترکی میں آباد آرمینیائی باشندے فرانس، برطانیہ اور روس کے حامی تھے اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔