راولپنڈی، الوداع الوداع، سیاسی یتیموں الوداع، 2020ء شفاف الیکشن کا سال ہے، بلاول بھٹو زرداری
http://www.tnnasia.tv
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں نیا پاکستان کے نام پر سیاسی یتیموں کا راج ہے، ملک بحرانوں کا شکار ہے، صوبوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ کوفے کی سیاست سے مدینے کی ریاست نہیں بن سکتی، اصلی جمہوریت بحال کرکے رہیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہید بی بی نے جلا وطنی کاٹی اور جان کے خطرے کے باجود واپس آئیں۔ 2007ء میں اسی جگہ انہوں نے آخری خطاب کیا لیکن مسلم امہ کی پہلی خاتوں وزیراعظم کو شہید کر دیا گیا۔ ایک خاندان سے والد، دونوں بیٹے اور پھر بیٹی بھی شہید کر دی گئی۔
بلاول نے کہا کہ بھٹو خاندان طاقت کا سرچمشہ عوام کو سمجھتے تھے۔ ہم نے انتقام اور انتشار نہیں پھیلایا۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا کیا۔ صدر زرداری نے مفاہمت کی سیاست کی۔ سوات مالاکنڈ کو دہشت گردوں سے آزاد کروایا اور ملک کو سی پیک کا تحفہ دیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں آج بحران ہی بحران ہے۔ صوبوں سے ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ ملک میں ڈاکٹر اور طالب علم سراپا احتجاج ہیں۔ گیس پیدا کرنے والے صوبے کو گیس سے محروم کر دیا گیا ہے۔ غریبوں سے ان کی چھت چھینی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے۔ آج پارلیمنٹ پر تالا لگ چکا ہے۔ آج پھر یہ دھرتی پکار رہی ہے کہ میں خطرے میں ہوں۔ 18ویں ترمیم پر حملے ہو رہے ہیں اور صوبوں سے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالا گیا۔ ملکی معاشی فیصلے عوام نہیں بلکہ آئی ایم ایف لے رہا ہے۔ کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے پاکستان کے نام پر سیاسی یتیموں کا راج ہے۔ میں بی بی شہید کے مشن کو جاری رکھوں گا اور اسے مکمل کروں گا۔ یہ تجربہ فیل ہو چکا، ملک میں آئینی اور معاشی بحران ہے۔