Jan 10, 2020 04:39 pm
views : 233
Location : National Assembly
Islamabad- Extraordinary demonstration of consensus among the government and opposition at the National Assembly meeting
اسلام آباد، قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کا غیر معمولی مظاہرہ
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کا غیر معمولی مظاہرہ ہوا۔
حکومت نے قومی اسمبلی میں 6 آرڈیننس واپس لے لیے جن میں سکسیشن سرٹفکیٹ آرڈیننس، لیگل ایڈ آرڈیننس، خواتین کے جائیداد میں حقوق سے متعلق آرڈیننس، بے نامی لین دین، اعلی عدلیہ کے ڈریس کوڈاور قومی احتساب آرڈیننس شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی آرڈیننسز کی واپسی اور بلز کی شکل میں منظوری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے ہمیں مذاکراتی عمل میں اعتماد میں نہیں لیا۔
حکومت نے یہی آرڈیننسز اسمبلی میں 6 بلز کی شکل میں پیش کئے جن میں سے 4 بلز وراثتی سرٹیفکیٹ بل ، قانونی معاونت وانصاف ،اعلیٰ عدلیہ میں لباس اور خواتین کے جائیداد کے بلز کی کثرت رائے سے فوری منظوری دیدی گئی جبکہ قومی احتساب اور بے نامی لین دین سے دو بلز مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیئے گئے۔
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بچوں کے خلاف جرائم کے سدباب کیلئے زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی ایکٹ 2019 بل پیش کیا جسے شق وار طور پر منظور کرلیا گیا۔
بل کے مطابق بچوں سے متعلق جرائم کا فیصلہ تین ماہ کے اندر کرنا ہوگا، بچوں کے خلاف جرائم پر کم سے کم دس سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید سزا دی جاسکے گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوسکے گا، گمشدہ بچوں سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، 1099ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جس پر بچے کی گمشدگی، اغوا اور زیادتی کی اطلاع فوری طور پر ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، ہوائی و ریلوے اڈوں، مواصلاتی کمپنیوں کے ذریعے دی جائے گی۔
قانون کے مطابق جو سرکاری افسر دو گھنٹے کے اندر بچے کے خلاف جرائم پر ردعمل نہیں دے گا اسے بھی سزا دی جاسکے گی، 185 سال سے کم عمر بچوں کااغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے، گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لئے زینب الرٹ جوابی ردعمل و بازیابی ایجنسی قائم کی جائے گی۔