Jun 29, 2021 02:43 pm
views : 232
Location : Domestic Place
If incidents like Canada had taken place in Karachi, Karachi would have been declared a dangerous city, DG Rangers Sindh
کراچی، تیزاب پھینکنے کے واقعات آئے تو شرمین عبید والی فلم بن گئی، ڈی جی رینجرز سندھ کہتے ہیں کینیڈا جیسے واقعات کراچی میں ہوتے تو اب تک کراچی کو خطرناک ترین شہر قرار دے دیا جاچکا ہوتا
ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے شرمین عبید چنائے کی فلم اور آسکر ایوارڈ پر تبصرہ کیا ہے۔
نجی یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران میجر جنرل افتخارحسن چوہدری کا کہنا تھا کہ کہ تیزاب پھینکنے کے تین واقعات آئے تو شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی، آسکر مل گیا۔کینیڈا میں پاکستانی فیملی کے ساتھ کیا ہوا؟ آپ کو پتا ہے؟ اور پھر ایک اور واقعہ ہوگیا، وہاں ایک شخص کی داڑھی مونڈ دی گئی۔کینیڈا جیسے واقعات کراچی میں ہوتے تو اب تک کراچی کو خطرناک ترین شہر قرار دے دیا جاچکا ہوتا۔
اُن کا کہنا تھاکہ ملک میں تیزاب پھینکنے کے 3 واقعات سامنے آئے تو اس پر شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی اور اسے آسکر بھی مل گیا۔لندن میں 800 سے زیادہ تیزاب پھینکنے کے واقعات ہوئے کہیں کوئی فلم نہ بنی، میڈیا بھی غائب رہا۔برطانیہ میں چاقو مارنے کے 10 ہزار کیسز ہوئے، کسی کو پتا نہیں چلا، آپ کے خیال میں کیا لندن اب بھی محفوظ ہے؟
ڈی جی رینجرز نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال نیویارک میں 1638یا 1688 مسلح ڈکیتیاں ہوئیں، کراچی میں 280 ہوئیں۔ہم اتنے برے نہیں جتنا ہمیں برا بنایا جاتا ہے اور ہم خود کو برا سمجھنے لگتے ہیں۔
میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے مزید کہاکہ ہمارے پاس پراسیکیویشن نہیں، 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست میں نہیں رکھ سکتے،اس کے بعد ہمیں ملزم پولیس کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔پراسیکیوشن پولیس کے پاس ہے، ہمارے پاس نہیں ہے، سابق سی سی پی او کراچی کے ساتھ پروسیکیوشن ٹیم بنائی گئی تھی۔پروسیکیوشن ٹیم کی وجہ سے عزیر بلوچ کی 5 مقدمات میں شناخت ہوئی، رینجرز دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، ہم نے غلطیاں بھی کی ہیں۔