Jun 30, 2021 02:05 pm
views : 240
Location : Domestic Place
Islamabad- Bilawal and Shah Mehmood have a war of words in Parliament
اسلام آباد، قومی اسمبلی میں بلاول اور شاہ محمود کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے، وزیر خارجہ کہتے ہیں یوسف رضا گیلانی سرکاری ووٹوں سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں
قومی اسمبلی میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایک دوسرے کے ماضی کے حوالے سے جملے کسے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی ن کہا کہ قوم کے 172 نمائندوں نے بجٹ کے حق میں ووٹ دیا، ووٹ کو بالکل عزت دینی چاہیے، اپوزیشن کی طرح حکومت والے بھی ووٹ لے کر آئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے رولز کی بات کی، رولز کے مطابق اسپیکر کی ذات پر حملہ نہیں کیا جاسکتا، اسپیکر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر چیمبر میں جا کر بات ہوتی ہے، ایک سابق وزیر اعظم سب کے سامنے اسپیکر کو دھمکی دیتا ہے، سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے کا موقع نہ دیا، سندھ کا وزیر خزانہ بجٹ بحث سمیٹے بغیر چلا گیا، کیا سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہے، یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔ شورشرابےاورغل غپاڑے سے ہمیں دبایا نہیں جاسکتا،اگر عمران خان نہیں بولے گا تو بلاول اور شہباز بھی نہیں بولیں گے۔
شاہ محمود قریشی کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے دھواں دار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کے وزیر نے میرا بار بار نام لیا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا، کیوں کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ کس شخصیت کے مالک ہیں، اور بہت جلد وزیراعظم عمران خان کو بھی پتہ چل جائے گا کہ یہ کیا چیز ہیں۔ ان کا نام اس لئے نہیں لوں گا کہ میں ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور ان کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے کشمیر کا سودا کیا۔ یہ وہی ملتان کے وزیر ہیں جن کو جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے دیکھا، اسی وزیر کواگلی باری پھر زرداری کہتےدیکھا، یہی وزیر پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر رہا، خان صاحب نہیں سمجھ سکیں گے کہ یہ کیا چیز ہیں، لیکن ان کو پتہ چل جائےگا، یہ اس حکومت کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔
بلاول بھٹو کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں بھی بلاول کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹے سے بچے تھے، جب ہم بات کرتے تھے تو یہ کھڑکی پر کھڑے ہوکر خوش ہوا کرتے تھے، آج اس بچے کو تقریریں لکھ کر دے دی جاتی ہیں اور وہ بھی پڑھ کر سنا دیتے ہیں، میں بلاول بھی پاپا کو بھی جانتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہیں۔
شاہ محمود قریشی کے جواب میں ایک بار پھر بلاول بھٹو نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ ان کے ساتھ رہنے والے ابھی نہیں جانتے کہ کیا ہیں اور اپنے مطلب کے لئے کیا کرسکتے ہیں، ہم نے انہیں اپنی جماعت سے اس لئے نکالا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنانے کے بجائے مجھے وزیراعظم کا عہدہ دیا جائے۔
بلاول کے وزیراعظم کے مطالبے کے جملے پر شاہ محمود قریشی غصے میں آگئے اور کہا بچے تم سہمے ہوئے ہو اور ابھی بچے ہو تمہیں حقیقت کا علم نہیں، جاؤ پہلے تحقیق کرلو کہ میں نے تمہاری جماعت کیوں چھوڑی، یہ پرچی لے کر آتے ہیں، چابی لگتی ہے اور آٹو پر لگ جاتے ہیں، ابھی وقت لگے گا بچے، بچہ پریشان ہو گیا ہے، آپ نے یوسف رضا گیلانی کو مک مکا کرکے اپوزیشن لیڈر تو نہ بنوایا ہوتا، یوسف رضا گیلانی سرکاری ووٹوں سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔