Aug 20, 2021 03:20 pm
views : 231
Location : Ministry of Foreign Office
Islamabad- Action should be taken against TTP for using Afghan Territory, Pakistan
اسلام آباد، ٹی ٹی پی کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے پر کارروائی ہونی چاہئے، پاکستان کا کہنا ہے ٹی ٹی پی دہشت گرد اور کالعدم تنظیم ہے،جس پر پاکستان اور اقوام متحدہ نے پابندی لگائی ہے
دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اپنی ہفتہ وار اور آخری پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان افغان صورتحال پر دنیا بھر کے رہنماؤں سے رابطے میں ہے، پاکستان کے سفیر منصور علی خان نے سابق صدر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی، انہوں نے طالبان قیادت سے بھی ملاقات کی ہے، افغان سیاسی قیادت نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا،اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، اس ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا افغانستان میں نہیں بلکہ وہاں موجود دہشت گرد گروہوں پر سرمایہ کاری کررہی تھی، دنیا نے پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں پر سرمایہ کاری کی، کچھ ممالک نے پاکستان اور افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کام کیا، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی، اب طالبان نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کا مثبت اشارہ دیا۔پاکستان افغانستان سے سفارتکاروں اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ارکان کے انخلا کے لئے بھی کام کررہا ہے، پاکستان نے وزارت داخلہ میں خصوصی سیل تشکیل دیا ہے، افغانستان میں پاکستان کا سفارتخانہ بھی کھلا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان میں وسیع البنیاد اور سب کو قابل قبول حکومت قائم ہونی چائیے، مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے خود کرنا ہے، بین الاقوامی برادری کو افغان ڈیفبس فورسز کی کارکردگی اور گورننس پر توجہ دینی ہوگی، افغان فورسز کے خلاف جدید ہتھیار اور جہاز تھے جوکہ طالبان کے پاس نہیں تھے، پاکستان کی پوزیشن بہت واضح ہے، ہم نے ہمیشہ سہولت کار کا کردار ادا کیا، طالبان کے ساتھ پاکستان مستقل رابطے میں رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ افغان عوام خود اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں، پاکستان نے افغان مسئلے کا سیاسی حل کا ہمیشہ مطالبہ کیا۔