Dec 30, 2016 08:45 pm
views : 977
Location : NADRA Headquarters
Islamabad- Federal Interior Minister Chaudhry Nisar Ali Khan
اسلام آباد ، پاکستان میں صحیح کام کرنا ناممکن اورغلط کام کرنا انتہائی آسان ہے، چوہدری نثارعلی خان
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحیح کام کرنا مشکل اور ناممکن جب کہ غلط کام کرنا انتہائی آسان ہے۔
اسلام آباد نادرا ہیڈکوارٹرز میں پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کا کہنا
تھا کہ ہم تشویش ناک صورتحال سے گزررہے ہیں، پاکستان کے شہری بیرون ملک میں
دہشت گردی میں پکڑے گئے اور بدنامی پاکستان کی ہوئی، پاکستانی شناختی کارڈ
اور پاسپورٹ غیر ملکیوں کے ہاتھ میں جارہے تھے جب کہ گزشتہ دور حکومت نے
انتہائی دلیری سے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیے جو
انسانی اسمگلنگ میں استعمال ہوئے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحیح کام
کرنا مشکل اور ناممکن جب کہ غلط کام کرنا انتہائی آسان ہے تاہم حکومت نے
جعلی شناختی کارڈ کے معاملے پر خصوصی توجہ دی، جعلی شناختی کارڈ نادرا کے
اندر سے ہی کچھ لوگوں نے بنائے لیکن نادرا میں اچھے لوگ بھی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق کے عمل کے دوران مجھ پر
کافی دباؤ رہا،اسمبلی اور میڈیا میں کافی تنقید کی گئی لیکن 6 مہینے میں یہ
کام مکمل ہوگیا ہے اور ان ساڑھے تین سالوں میں ساڑھے 4 لاکھ شناختی کارڈ
بلاک اور 32 ہزار سے زائد پاسپورٹ منسوخ کیے تاہم جو شناختی کارڈ غیر ضروری
طور پر بلاک ہوئے ہیں وہ بحال ہوجائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ 2011 سے پہلے
شناختی کارڈ کی جانچ پرتال نہیں ہوئی تاہم یہ ہماری قومی سلامتی کا مسلہ ہے
اور قومی شہریت بیچنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں لہذا جن افراد کے
شناختی کارڈ بلاک ہوئے ہیں اس کی بحالی کے لیے کمیٹی بنارہے ہیں جب کہ بلاک
شناختی کارڈ 1978 سے پہلے کا ریکارڈ پیش کرنے پر ریونیوڈپارٹمنٹ سے بحال
ہوجائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست کے نام سے عجیب سی کھچڑی پکائی جارہی ہے،
دو اہم ترین لیڈرز کہتے ہیں کہ اب اداروں میں ہمارے آدمی آگئے ہیں تاہم
ان اہم ترین اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے کیونکہ ان لوگوں کو ایسے
افراد چاہئیں جو ان کی کرپشن اور دھرنوں کا ساتھ دیں۔