کراچی، گارڈن میں تاریخی اسکول منہدم، طلبا کومشکلات کا سامنا
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں لینڈ مافیا نے سنہ 1928 میں تعمیر ہونے
والے تاریخی اسکول پر بلڈوزر چلا کر منہدم کردیا۔ طلبا ٹوٹی کلاسوں کے ملبے
پر پڑھنے چلے آئے۔
لینڈ مافیا نے کراچی کے علاقے گارڈن میں قائم قدیم سرکاری اسکول کی زمین
پر قبضہ کرنے کے لیے بھاری مشنیری کے ساتھ اسکول پر دھاوا بول دیا۔بلڈوزر
کی مدد سے اسکول کی چار دیواری سمیت کئی کلاسز کو منہدم کردیا گیا۔
اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا پہلے بھی کئی بار اسکول گرانے کی
کوشش کرچکی ہے۔تاریخی اسکول کے منہدم ہونے کے باوجود آج پیر کی صبح طلبا
بستے اٹھائے چلے آئے اور ملبے پر بیٹھ کر پڑھائی شروع کردی۔
کراچی کے مصروف ترین علاقے گارڈن میں کئی ایکڑ پر پھیلے اس اسکول کا سنگ
بنیاد جنگ عظیم دوم میں بچ جانی والی ایک خاتون جفل ہرسٹ نے رکھا۔
سنہ 1928 میں قائم ہونے والے اسکول میں ایک ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیر
تعلیم ہیں۔ اس قدیم ا سکول سے کئی نامور شخصیات بھی تعلیم حاصل کر چکی
ہیں۔
بعد ازاں سنہ 1974 میں اسے گورنمنٹ اسکول کا درجہ دیا گیا۔ سندھ حکومت نے
اسکول کی عمارت کی تزئین و آرائش دیکھتے ہوئے اسے قومی ورثہ قرار دیا۔
طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اسکول کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہونے لگی
اوراب بڑی بڑی عمارتوں سے گھرا یہ اسکول لینڈمافیا کے نشانے پر ہے۔
ڈپٹی میئر کراچی ارشد ووہرا نے کہا ہے کہ اسکول کی عمارت توڑنا جرم ہونا
چاہیے،گرائے گئے اسکول کی تعمیر نو کرکے اسے ماڈل اسکو ل بنایا جائے۔
میڈیا سے گفتگو میں ارشد ووہرا نے کہا کہ اسکول گرانے کی کارروائی رات کے
اندھیرے میں کی گئی،پولیس کے علم میں لائے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا ،علاقے
کی پولیس بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسکول گرانے میں جو بھی افراد اور بلڈرز ملوث ہیں ان
کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،ہمیں زمینوں کے بجائے تعلیم پر توجہ دینا ہوگی
۔
ڈپٹی میئرارشد ووہرا نے یقین دہانی کرائی کہ ڈی ایم سیز کے تحت چلنے والے اسکولوں کی فہرست عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔