اسلام آباد،احتساب عدالت نے نوازشریف کو نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے انیس جون تک کی مہلت دے دی
احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو اپنے خلاف نیب ریفرنسز کی پیروی کی غرض سے وکیل مقرر کرنے کے لیے انیس جون تک کی مہلت دے دی ہے،احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف آج اپنے وکیل کے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز بھی احتساب عدالت میں موجود تھیں۔
دوران سماعت عدالت نے خواجہ حارث کی نیب ریفرنس سےعلیحدگی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ ہفتے اوراتوارکو سماعت لازمی ہے،اس موقع پر عدالت نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کی کاپیاں فریقین کو فراہم کرنے کا حکم دیا،دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے کوئی دوسرا وکیل کیا ہے یا خواجہ حارث صاحب کو ہی کہیں گے؟ جس پرنواز شریف نے جواب دیا کہ یہ کوئی اتنا آسان فیصلہ نہیں،ایک وکیل جس نے اس کیس میں اتنی محنت کی ہو اسے چھوڑ کر نیا وکیل تلاش کرنا شروع کردوں؟
احتساب عدالت نے ایون فیلڈریفرنس پرسماعت 14 جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نوازکوحاضری سے استثنیٰ دے دیا ہے، سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کے وکیل امجد پرویز 14جون کو ایون فیلڈریفرنس میں حتمی دلائل دیں گے جبکہ احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے قائد کو 19 جون تک نواز شریف کو نیا وکیل لانے کے لیے وقت دے دیا، عدالت نے کہا کہ خواجہ حارث کومنائیں یا نئے وکیل کے ساتھ 19جون کو آئیں۔