پشاور،کسی بھی بڑی پارٹی نے خواجہ سراء کو ٹکٹ دینے یا سپورٹ کرنے کی بات نہیں کی افسوس کی بات ہے،خواجہ سرا ایسوسی ایشن
خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے
جبکہ سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ نہ دینے یا سپورٹ نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا ہے۔
بلیو وینس کے کوارڈنیٹر قمر نسیم نے خواجہ سراوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے خواجہ سراؤں کا کہنا تھا2013 کے انتخابات میں بھی خواجہ
سراوں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا ،چاروں صوبوں سے مل کر خواجہ سراؤں نے
نیٹورک بنایا،2017 کے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے خواجہ سراوں کو انتخابات
کے عمل میں شامل کیا گیاہے،2017 کی ترمیم کے بعد خواجہ سرا جب ووٹ کاسٹ
کرنے جاینگے تو انہیں قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔
کے پی کے پہلا صوبہ ہے جس میں اسمبلی نے بل کو پاس کروایا،کسی بھی بڑی
پارٹی نے خواجہ سراء کو ٹکٹ دینے یا سپورٹ کرنے کی بات نہیں کی افسوس کی
بات ہے،ہم نے الیکشن کمیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ جو فیس رکھی گئی ہے وہ بھی
ناروا ہے،ہمارا مطالبہ یہ ہے خواجہ سرواں کو بطور ووٹر اور امیدوار انکا
حصہ دیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سرا نایاب کا کہنا تھاہمیں ہر ادارے
سے اپنے آپ کو منوانا پڑتا ہے اسی طرح کا رویہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ساتھ
روا رکھا۔
خواجہ سرا فرزانہ کاکہنا تھا کہ دنیا کو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا ،ہم اپنے
پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں،جو خواجہ سرا انتخابات میں کھڑے ہو رہے ہیں۔