اسلام آباد،سپریم کورٹ نے طلال چوہدری توہین عدالت کیس کی سماعت عام انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا ایک بار پھر مسترد کردی
سپریم کورٹ نے طلال چوہدری توہین عدالت کیس کی سماعت عام انتخابات کے بعد
تک ملتوی کرنے کی استدعا ایک بار پھر مسترد کردی ہے تاہم طلال چوہدری کو
آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنی مل گیا،کیس کی سماعت 28 جون تک ملتوی کر دی
گئی،جسٹس گلزار احمد ، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل
تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے بعد ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری
کا کہنا تھا کہ عدالت کے حاضری سے استثنیٰ دینے پر عدالت کے مشکور
ہیں،2018 کے اتخابات میں دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عمران خان پہلے
سے ہی بہانے بازی کر رہے ہیں۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا عمران خان وضاحت کریں کہ وہ 62،63 پر کس طرح پورے
اترتے ہیں ،عوامی عدالت جواب مانگ رہی ہے کیا افتخار چوہدری کے الزامات سچے
ہیں یا جھوٹے،گھر سے ٹافی چوری ہونے پر عدالت آنے والے افتخار چوہدری کا
جواب دیں ساری دنیا کے لوٹے پی ٹی آئی میں آگئے ہیں۔
سابق وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی
ہے لیکن مسلم لیگ ایسی ہی ہے جیسی پہلے تھی ہمیں توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن
نواز شریف کو نا اہل کیا گیا لیکن مسلم لیگ کو کچھ نہ ہوا۔