پشاور،عام انتخابات 2018 قریب ،پرنٹنگ مارکیٹ سنسان
عام انتخابات 2018 قریب ہیں تاہم پرنٹنگ مارکیٹ اس بارسنسان پڑ ی ہے۔
عام انتخابات میں تقریبا ایک مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے مگر انتخابی مہم میں تاحال کوئی تیزی نہ آسکی، یہی وجہ ہے کہ پشاور کی سب سے بڑی پرنٹنگ مارکیٹ اس بارسنسان پڑی ہیں۔
انتخابات 160جیسے ہی قریب آتے160تھے تو 160 پرنٹنگ پریس مالکا ن کی چاندی160 ہو جاتی160 تھی مگر اس بار حالات کچھ مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔عام انتخابات 2018 قریب تو آگئے ہیں تاہم 160بینرز،پینافلیکس،بیجز، اور پارٹی ٹوپیوں سمیت دیگر انتخابی تشہیری مواد بنانے کیلئے160 امیدوار نظر نہیں آرہے ہیں جسکی وجہ سے160 پشاور کی سب سے بڑی پرنٹنگ مارکیٹ محلہ جنگی میں انتخابات کے دن مشینوں کا شوروغل ماند پڑ گیا ہے،پرنٹنگ مالکان کا کہنا ہے کہ اب بینرزصرف سوشل میڈیا پر ہی لگنے لگے ہیں۔
مارکیٹ میں عام انتخابات کے موقع پر امیدواروں اور انکے سپورٹرز کی چہل پہل انتہائی کم ہونیکی وجہ سے دکاندار پریشان دکھائی دے رہے160 ہیں،کہتے ہیں اب سپورٹرز اپنے امیدوار وں کی تشہیر کا سستا بلکہ مفت ذریعہ شوشل میڈیا کا استعمال کرنے لگے ہیں۔
دکاندار ناصر بخاری کا ذرائع ابلاغ عامہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی کام کم ہے آنے والے دنوں بڑھ جائیگا۔
ایک اور دکاندار عبدالحکیم خان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم پنجاب تک کے آرڈر لیا کرتے تھے لیکن اس بار سمجھ نہیں آرہا کہ کام کیوں نہیں ہے۔