اسلام آباد:فاٹا اور پاٹا میں بجلی پر سیلز ٹیکس نہیں لیا جائے گا: نگراں وزیر اطلاعات
نگراں وزیر اطلاعات بیرسٹر علی ظفر نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے
ہوئے بتایا کہ فاٹا کے انضمام سے متعلق پارلیمنٹ نے اہم فیصلہ کیا تھا۔
فاٹا کے انضمام کے بعد کچھ قانونی معاملات زیر بحث آئے تھے۔ فاٹا کے عوام
کو بنیادی حقوق اور یکساں قانون کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انفرا
اسٹرکچر اور سسٹم کو چلانے کے لیے جادو کی چھڑی کو استعمال نہیں کیا جا
سکتا۔ سسٹم چلانے کے لیے ایک نظام وضع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت نے فاٹا اور پاٹا کے لیے 5 سال تک کسٹم
ڈیوٹی نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ نگراں کابینہ اجلاس میں بھی فیصلے کو
برقرار رکھا گیا ہے۔ فاٹا اور پاٹا سے متعلق دیگر اقدامات نگراں صوبائی
حکومت نے کرنا ہے۔ وفاق فاٹا اور پاٹا میں انفرا اسٹرکچر کے لیے بھرپور
معاونت کرے گا۔
نگراں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومت کے لیے معاشی چیلنجز سے
نمٹنے کے لیے کچھ فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں احتساب عدالت کے جیل ٹرائل سے
متعلق بھی بات چیت ہوئی۔ آرٹیکل 10 اے کہتا ہے سب کو فیئر ٹرائل اور انصاف
ملنا چاہیئے۔ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم
نواز کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہوگی۔
نگراں وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف بھی بڑا ایشو ہے جس
کے لیے اقدامات کرنے ہیں، معاشی لحاظ سے کچھ پالیسیوں پر غور کیا گیا تاکہ
آئندہ حکومت کو سہولت ملے۔