کلبھوشن کیس: پاکستان نے جواب الجواب عالمی عدالت انصاف میں جمع کرادیا
پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے بھارتی خفیہ ایجنسی کےایجنٹ کلبھوشن جادھو
کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، اس پر جاسوسی
کے سنگین الزامات ہیں، بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے
اعتراف بھی کیا ہے۔رواں برس 10 اپریل 2017 کو کلبھوشن جادھو کو سزائے موت
سنائی گی تھی۔لیکن بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب
کلبھوشن جادھو کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ محمد فیصل کے مطابق پاکستان کی جانب سے ڈائریکٹر انڈیا
فاریحہ بگٹی نے ڈوزیئر جمع کرایا۔ ہیگ میں پاکستانی سفارتخانے کے افسر وسیم
شہزاد بھی ان کے ہمراہ تھے۔سفاری ذرائع کے مطابق ہیگ کی عالمی عدالت میں
جمع کرائے گئے چار سو صفحات پر مشتمل جواب میں بھارت کے تمام اعتراضات کو
مسترد کیا گیا ہے۔جواب پاکستانی اٹارنی جنرل کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم
نے مرتب کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جواب میں بھارتی سوالات پر تفصیل سے
جواب دیا گیا ہے۔
یہ پاکستان کی جانب سے جواب الجواب میں پہلا جواب ہے جبکہ کیس میں عالمی
عدالت میں جمع کرائے گئے جوابات میں مجموعی طور پر دوسرا جواب ہے۔اس سے
پہلے پاکستان نے بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن کے کیس میں اپنا جواب
13دسمبر 2017 کو جمع کرایا تھا۔
واضح رہے کہ بھارتی میڈیا بھی کلبھوشن یادوو کے جاسوس ہونے کی تصدیق کرچکا
ہے، گزشتہ برس ذرائع ابلاغ نے رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ
146بھارتی جاسوس اپنی احمقانہ حرکتوں کی وجہ سے گرفتار ہوا