اسلام آباد:چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کا خطاب، پاکستان کو متحد کرنے کا عزم
الیکشن 2018 میں وفاق میں واضح اکثریت حاصل کرکے ملک کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے پہلا خطاب جاری ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان فتح کے بعد قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس موقع
پر انھوں نے پاکستان کو متحد دیکھنے کی خواہش اور عزم ظاہر کیا۔ان کا کہنا
ہے کہ 22 سال پہلے جس جدوجہدکیساتھ چلاتھا، آج اس میں کامیابی ملی، میں نے
پاکستان کو اوپر جاتے ا ورپھر نیچے جاتے ہوئے دیکھا۔
عمران خان نے کہا کہ میں چاہتاتھا، پاکستان وہ ملک بنے جس کاقائداعظم نے
خواب دیکھا تھا، الیکشن میں لوگوں نے بہت قربانیاں دی،عوام کوداد دینا
چاہتا ہوں، پاکستان کے عوام کوانتخابات میں شرکت پرخراج تحسین پیش کرتا
ہوں۔
انھوں نے کہا کہ مدینہ جیسی ریاست فلاحی ریاست چاہتاہوں، پاکستان کوفلاحی
ریاست کے طورپردیکھنا میری خواہش ہے۔ جمہوری عمل کوآگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہے
ہیں، انتخابی مہمات میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے، ہارون بلور،سراج
رئیسانی سمیت کئی اہم رہنماشہید ہوئے۔
عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وعدہ کرتاہوں، عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی
حفاظت کروں گا، عوام ٹیکس اس لیے نہیں دیتے، کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں حکمران
عیاشی کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم وزیراعظم ہاؤس کو ایجوکیشن سسٹم کے لئے
دینا ہے یاہوٹل بنانا ہے، ہماری حکومت فیصلہ کرے گی، وزیراعظم ہاؤس کے
ذریعے کمایاگیاپیسہ عوام پرخرچ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجربرادری سے ملکرٹیکس کلچربنائیں گے جس سے فائدہ ہوگا،
اینٹی کرپشن ادارے کومضبوط کریں گے،ایف بی آرپرخصوصی توجہ دیں گے، نیب
کیاختیارات میں اضافہ اوراسے مزیدمضبوط کریں گے۔
عمران خان نے اپنی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین کیساتھ
تعلقات کومزید فروغ دیں گے، سی پیک کواستعمال کرکے مزیدسرمایہ کاری پاکستان
میں لائیں گے، چین نے70کروڑلوگوں کوغربت سے نکالا، چین نے کرپشن کیخلاف
ٹھوس اقدامات کیے، چین کے تجربے سے مدد حاصل کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان افغانستان میں امن کاخواہاں ہیں، افغانستان میں
امن پاکستان میں امن ہے، چاہتاہوں افغانستان کیساتھ اوپن بارڈرہو۔ بدقسمتی
سے امریکا کیساتھ تعلقات یک طرفہ ہیں، جس سے بہت نقصان پہنچا، ایران
کیساتھ تعلقات کو اور بہترکرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب ہرمشکل وقت میں پاکستان کیساتھ کھڑا رہتا
ہے، مشرق وسطیٰ میں جوصورتحال ہے، چاہتے ہیں کہ پاکستان اس میں کردارادا
کرے۔
عمران کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے جس طرح میری کردارکشی کی جس پربہت دکھ
ہوا، بھارتی میڈیانے مجھے ایسے پیش کیاجیسے میں کسی فلم کاولن ہوں،
پاکستان اوربھارت کے چھیتعلقات برصغیرکیلئیاچھیہوں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ
غربت ختم کرنے کے لئے پاکستان اوربھارت کوتجارت کرنی ہوگی، جس سے فائدہ
ہوگا، بدقسمتی ہے ہمارے مسائل میں کشمیرکے حالات شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں، کوشش ہونی
چاہے پاکستان اوربھارت مسئلہ کشمیرکومیزپربیٹھ کرحل کریں۔
بھارت ہرچیزپرپاکستان پرالزام لگاتاہے یہ تعلقات کیلیے اچھانہیں، اگر
بھارتی لیڈرشپ مذاکرات کے لیے تیارہے، تو ہم بالکل تیارہیں تعلقات بہترہوں،
چاہتے ہیں پاکستان اوربھارت مل کربیٹھیں اوربات کریں۔