عمران خان کی زندگی پر ایک نظر
عمران خان نے ابتدائی تعلیم ایچی سن سے حاصل کی اور ہائی تعلیم Worcestershire اور اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ سے مکمل کی عمران خان کو فلاسفی، سیاسیات، اور معاشعیات، میں مہارت حاصل ہے۔ان کو کرکٹ کا شوق شروع سے ہی تھا۔ کرکٹ کا باقاعدہ آغاز 18برس کی عمر میں 1971ء کو انگلینڈ کے خلاف برمنگھم سے کیا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد عمران خان نے باقاعدہ طور پر قومی ٹیم میں شمولیت اختیار کی جو کہ 1992ء تک جاری رہی انکی کپتانی بہت مشہور تھی یہ ہی وجہ ہے کہ انگلینڈ کو انکی سر زمین پر 28سال بعد ٹیسٹ میچ میں شکست ہوئی۔ عمران خان ایک نڈر اور بہادر کپتان کیساتھ ایک نیک شخصیت کے حامل انسان بھی ہیں۔فلاحی کاموں میں انکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انکی متعدد خدمات ہیں جنکے ذریعے وہ غریب لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ خاص کر شوکت خانم کا قیام قابل ذکر ہیں۔
کرکٹ کے میدانوں سے لیکر سیاسی میدانوں تک عمران خان کو کبھی ہارتے نہیں دیکھا گیا۔ وہ ہار کامیابی سے سیکھے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جس پارٹی کو ایک سیٹ بڑی مشکل سے ملتی تھی آج وہ پاکستان کی سب بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔
2013ء میں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کی وجہ انہوں نے دھاندلی کو قرار دیا اور یوں 14اگست 2014کو لاہور سے اسلام آباد تک احتجاجی قافلہ روانہ ہوا جو کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل دورنیہ کا احتجاج تھا۔ موجود ہ حکومت یعنی مسلم لیگ ن کے لئے عمران خان سب سےٍ بڑا درد سر رہے۔ وہ ایک کیس سے نہیں نکلتا دوسرا کیس شروع کر دیتے ہیں۔ سیاسی حالت ابھی سنبھلی تھی کہ پانامہ کا ایشو سامنے آیا اور یوں تحریک انصاف نے حکمران جماعت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عدالتوں میں کیس کرنے کے بعد بالاآخر پاکستان کے تیسری بار منتخب وزیراعظم کواپنا دورانیہ مکمل کئے بغیر گھر بھیج دیا۔
عمران خان کی اگر نجی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو اس میں بھی کپتان نے ہار تسلیم نہیں کی۔ خان صاحب نے پہلی شادی برطانیہ کی امیر زادی خاتون جمائمہ گولڈ سمتھ سے 1995میں ذاتی مسائل کی وجہ سے یہ رشتہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور یوں نو برس کے بعد دونوں نے علیحدگی اختیار کی ان کے دو بیٹے ہوئے جو برطانیہ میں زیر تعلیم ہیں۔ عمران خان نے دوسری شادی جنوری 2015ء میں ایک ٹی وی اینکر ریحام خان سے کی۔22اکتوبر کو دونوں نے علیحدگی اختیار کی جو کہ بہت متنازعہ رہی۔ حال ہی میں عمران خان صاحب نے ایک روحانی شخصیت بشریٰ مانیکا سے تیسری شادی کی ہے جسے میڈیا اور انکے سیاسی مخالفین بڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ایک نیا پاکستان کا نعرہ لگا نے والے عمران خان اب پوری قوم کی امید کا واحد سہارا بن چکے ہیں۔