اسلام آباد:عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کرنیوالا اسلام آباد ہائیکورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیئے گئے 2 رکنی ڈویژنل بینچ کے سربراہ جسٹس شوکت عزیر صدیقی تھے جب کہ بینچ کے دوسرے رکن جسٹس اطہر من اللہ تھے۔عدالتی بینچ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے لیے سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس رافتخارمحمد چوہدری کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالوہاب بلوچ کی درخواست پر سماعت کرنا تھی۔
اس کے علاوہ دو رکنی بینچ نے عمران خان وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں حصہ لینے سے روکنے کی متفرق درخواست بھی سننا تھی جو شہدا فاؤنڈیشن کے حافظ احتشام نے دائر کی تھی۔جمعرات کے روز جب عدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے رکن جسٹس اطہر من اللہ نے کیس سننے سے معذرت کرلی۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھاکہ وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ رہے ہیں اور ان کا ایک تعلق رہا ہے لہٰذا وہ کیس نہیں سن سکتے۔جسٹس اطہر من اللہ کی معذرت کے بعد بینچ تیسری مرتبہ ٹوٹ گیا اور نیا بینچ بنانے کے لیے معاملہ پھر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوادیا گیا ہے۔
گزشتہ روز تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس دو رکنی بینچ پر اعتراض دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے تحریک انصاف کے بارے میں تاثرات ٹھیک نہیں جب کہ جسٹس اطہر من اللہ کا تعلق سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے رہا ہے۔