کوئٹہ ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت بی اے پی کے پارلیمانی گروپ کااہم اجلاس
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت بی اے پی کے پارلیمانی گروپ کااہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے تمام اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی اجلاس میں مختلف صوبائی امور کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفاد کے حوالے سے بعض اہم فیصلے کئے گئے اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان کے عوام نے بلوچستان عوامی پارٹی پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس پر پورا اترنے کے لئے پارٹی کے تمام عہدیدار اور اراکین اسمبلی عوام کے مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کے لئے اپنی بھرپور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور مخلوط حکومت میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینٹ کی خالی ہونے والی نشست پر حلیف جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ امیدوار نامزد کیا جائے گا بیروزگاری کے خاتمے اور باصلاحیت نوجواوں کو ضلع کی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ قواعد وضوابط سے ہٹ کر کی جانے والی تعیناتیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ مالی سال 2018۔19 کی پی ایس ڈی پی میں شامل غیرمنظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کا بھی دوبارہ سے جائزہ لے کر ان منصوبوں پر عملدرآمد یا انہیں روکنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا جبکہ گذشتہ سال کی پی ایس ڈی پی میں شامل ایسے منصوبے جن پر کام کا آغاز نہیں ہوا یا ان پر 30فیصد سے کم پیشرفت ہے ان پر بھی عملدرآمد روک دیا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شادی کور ڈیم کے منصوبے میں مقامی لوگوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے طے شدہ فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیگر علاقوں کے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کی گئیں جس سے مقامی آبادی میں بے چینی پائی جاتی ہے اور منصوبہ تعطل کا شکار ہے لہٰذاغیرقانونی بھرتیوں کو منسوخ کرکے مقامی اور اہل امیدواروں کو ملازمتیں دی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں اورضلعوں کا باقاعدگی کے ساتھ دورہ کرکے لوگوں کے مسائل حل کریں خاص طورپر تعلیم، صحت اور آبنوشی کے شعبوں کی بہتری کے لئے اقدامات تجویز کریں تاکہ ضلعی سطح پر سماجی شعبہ ترقی کرسکے جبکہ وہ خود بھی متعلقہ محکموں کے سیکریٹریوں کے ہمراہ صوبے کے تمام علاقوں کا دورہ کریں گے۔
اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لئے تمام سطحوں پر تعیناتیاں وتبادلے میرٹ اور قواعد وضوابط کے مطابق کئے جائیں گے تاکہ کسی افسر اور اہلکار کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔