خان پور، دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند، سینکڑوں افراد کے بے گھر ہونے کاخدشہ
دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے مزید دیہاتوں کے صفحہ ہستی سے
مٹنے اور کاٹو کے باعث سینکڑوں افراد کے بے گھر ہونے کاخدشہ پیدا ہو گیا
ہے۔ احمد کڈن کے مقام پر دریائی کٹاو میں اضافہ, پانی گھروں تک پہنچ
گیا۔مقامی لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔
دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔ پانی کے تیز بہاو کے سبب
خان پور کے دریائی علاقوں موضع احمد کڈن اور موضع مڈ عادل میں دریائی کٹاو
میں اضافہ ہوگیا ہے،6 کلو میٹر دریائی پٹی کٹاو کی زد میں آگئی ہے اور
پانی مقامی آبادی تک پہچ گیا۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایکڑ رقبہ دریا برد
ہونے کا سلسلہ جاری ہے ۔سینکڑوں ایکڑرقبہ پر تیار فصلیں دریا برد ہوتی
جارہی ہیں بستی خادم حسین سمیت دیگر بستیوں کے مکین نقل مکانی پرمجبور ہیں۔
اس کے برعکس مقامی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کٹاو کو روکنے کے لئے ابھی
تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔
علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مقامی قبرستان دریائی
کٹاو کی زد میں آگیا ہے اور کئی مکانات بھی گر گئے ہیں اگر کٹاو اسی طرح
جاری رہا تو 800 گھر دریا برد ہونے کا خدشہ ہے جبکہ 50 سے زائد دیہات زیر
آب آنے کے ساتھ منچن بند کو بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔
احتجاجی مظاہرین کے مطابق کٹاو روکنے کے لئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو
10 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ مظاہرین نےکہا کہ موجودہ حکومت پچھلے
حکمرانوں کی روش ختم کرکے قبل ازوقت اقدامات کرے تاکہ تباہی کے بعد ہنگامی
حالات سے بچا جاسکے۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سمیت اعلی حکام سے نوٹس لینے
کی اپیل کی ہے۔
اس موقع پر مقامی نوجوان محمد رضوان نے ذرائع ابلا غ عامہ کے نمائند ے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
بزرگ شہری جبار خان نے میڈیاکے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا