Mar 08, 2019 01:00 pm
views : 365
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- Courts are not responsible of pending Cases, Chief Justice
اسلام آباد، زیرالتواء مقدمات کی قصور وار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے، چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ زیرالتواء مقدمات کی قصور وار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک دیوانی مقدمے کی سماعت کے دوران اہم
ریمارکس دیئے کہ عدالتوں کو زیرالتواء مقدمات کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن اس
کی قصور وار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے، ججز کی 25 فیصد خالی آسامیاں پُر کر
دی جائیں تو دو سال میں زیر التواء مقدمات ختم ہوجائیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ججز زیر التواء مقدمات نمٹانے کی بھرپور کوشش کر
رہے ہیں، ایک سال میں 31 لاکھ مقدمات نمٹائے گئے ہیں جن میں سے صرف سپریم
کورٹ نے 26 ہزار مقدمات نمٹائے ہیں، اس کے مقابلے میں امریکا کی سپریم کورٹ
نے ایک سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹائے ہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ 21 سے 22 کروڑ کی آبادی کے لئے صرف
3 ہزار ججز ہیں اور عدالتوں میں اب زیر التواء مقدمات کی تعداد 19 لاکھ
ہوگئی ہے۔