Apr 23, 2019 03:55 pm
views : 286
Location : National Stadium
Islamabad- Opposition slams Imran for saying Pak territory used to carry out attacks in Iran
اسلام آباد، وزیراعظم کی ایران میں تقریر پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی
وزیراعظم عمران خان کی ایران میں کی گئی تقریر پر قومی اسمبلی
میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب گرما گرما ہوئی۔
ڈپٹی
اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اپوزیشن
ارکان نے وزیراعظم عمران خان کی ایران میں تقریر پر انہیں تنقید کا نشانہ
بنایا تو حکومتی ارکان نے بھی حزب اختلاف کو آڑے ہاتھوں لیا۔اس دوران
دونوں فریقین میں خوب تلخ کلامی ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے
بازی بھی کی گئی۔ حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر
کے ڈائس کے آگے دھرنا دے دیا۔
ن لیگ کے خرم دستگیر نے کہا کہ وزیراعظم نے ایران میں جو بیان دیا وہ
انتہائی خطرناک ہے، وزیراعظم نے اعتراف کیا عسکری گروپ پاکستان نے بنائے
اور ایران میں دہشت گردی کے گروپ پاکستان کے اندر سے آپریٹ کر رہے ہیں،
انہوں نے قومی سلامتی کو نشانہ بنایا ہے۔
شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم کے ایران میں دیئے گئے بیان کو پورا پڑھا
جائے، یہ وہی مودی ہے جو رائے ونڈ آیا تھا جس کے ساتھ ن لیگ نے ڈیل کی تھی،
ن لیگ پہلے اپنے گریبان میں دیکھے، ایران اور پاکستان کو کالعدم تنظیموں
کو سرحد کے دونوں اطراف ختم کرنا ہوگا، دونوں ممالک میں کالعدم تنظیموں کے
خاتمے پر بات ہوئی ہے۔
مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور مچاتے ہوئے نو بے بی نو اور رو
بے بی رو کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے
ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور دھرنا دیتے ہوئے گو نیازی گو نیازی گو کے
نعرے لگائے۔ ڈپٹی اسپیکر نے نماز کا وقفہ کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا۔