اسلام آباد، پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا شیڈول طے پاگیا
پاکستان
اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا شیڈول طے پاگیا جس کے تحت پیر سے
باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا جائزہ مشن
ڈائریکٹرارنسٹو رمیریزریگو کی سربراہی میں 29 اپریل کو پاکستان پہنچے گا
اور 7 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا اس دوران آئی ایم ایف جائزہ مشن
مختلف اداروں کا دورہ بھی کرے گا، نئے پروگرام کیلئے 29 اپریل سے باضابطہ
مذاکرات شروع ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ
وزارتوں اور اداروں کو مراسلہ جاری کردیا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے
ایف بی آر سمیت متعلقہ وزارتوں سے ڈیٹا مانگ لیا اور جائزہ مشن کے ساتھ
مذاکرات کے لیے 9 ماہ کے اقتصادی اعداد وشمار پر مشتمل ڈیٹا مرتب کرنے کی
ہدایات بھی کردی ہے، وزارت خزانہ کی ہدایت پر ایف بی آر کے تمام متعلقہ
ونگز نے ڈیٹا مرتب کرنا شروع کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جائزہ مشن
کو بجلی کے نرخ میں اضافہ، روپے کی قدر،موبائل فون کارڈ پر ٹیکس کی بحالی
سے اضافی ریونیو، ایمنسٹی اسکیم اور قرضوں کی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق شرائط پر
پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا تاہم چین سے لئے جانیوالے قرضوں کے بارے آئی
ایم ایف کو آگاہ کرنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم
ایف پاکستان کی ٹیکس آمدنی جی ڈی پی کے 13.2 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ
کررہا ہے، حکومت پاکستان نے 12.7 فیصد تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے،
آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات میں ریونیو فریم ورک پر بھی تفصیلی
تبادلہ خیال ہوگا، ریونیو فریم ورک میں بجٹ میں 729 ارب روپے کے نئے ٹیکس
لگانے کی تجاویز زیرغور ہیں۔