کراچی،طاقتور ترین سمندری طوفان کیار،پاکستان کی ساحلی پٹی متاثر
طاقتور ترین سمندری طوفان کیار پاکستان سے نہیں ٹکرائے گا، اومان چلا جائے گا، تاہم طوفان کے ذیلی اثرات جو گزشتہ روز پاکستانی ساحلوں بالخصوص کراچی کے ساحل پر نظر آنے شروع ہوئے تھے ان میں بتدریج شدت آتی جا رہی ہے۔
بحیرۂ عرب کا دوسرا طاقتور ترین سپر سائیکلون کیار کراچی سے 730 کلو میٹر کی دوری پر ہے، سمندر میں طغیانی کے باعث آج دن میں دو بار لہریں معمول سے زائد بلند ہو سکتی ہیں، جن سے جزائر اور نشیبی ساحلی علاقے زیرِ آب آنے کا بھی خدشہ ہے۔
محکمۂ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق طوفان کیار شمال مغرب کی جانب فی گھنٹہ 10 سے 12 کلو میٹر کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
طوفان کے مرکز میں 230 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، سپر سائیکلون پر کل مغربی ہواؤں کا سسٹم اثر انداز ہوگا جو اس کا رخ جنوب مغرب کی جانب کر کے سپر سائیکلون کو کمزور کرے گا اور شدید ترین سمندری طوفان میں تبدیل کر دے گا۔
طوفان کے باعث آج بھی سمندر میں طغیانی رہے گی اور لہریں 3 میٹر سے زائد بلند ہوسکتی ہیں، رات تک لہریں مزید بلند ہوسکتی ہیں، جن سے ساحلی نشیبی علاقے اور جزائر زیرِ آب آ سکتے ہیں۔
سائیکلون ’کیار‘ کا زور 3 نومبر تک رہے گا، جو اومان کے قریب پہنچ کر اپنا رخ خلیجِ عدن کی جانب کر سکتا ہے اور یمن کے جزیرے سکوٹرا کو متاثر کر سکتا ہے۔
طوفان کی وجہ سے بدھ سے جمعے تک کراچی سمیت زیریں سندھ اور مکران کے ساحل پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا بھی امکان ہے۔
دوسری جانب بحیرۂ عرب میں ہوا کا ایک اور کم دباؤ بن گیا ہے جس کے بعد ایک نئے سائیکلون ماہا کی آمد متوقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفرازکے مطابق بحیرۂ عرب میں ہوا کا ایک اور کم دباؤ بن گیا ہےاور مشرقی بحیرۂ عرب میں یہ ہوا کا دباؤ سائیکلون کیار کے بننے والے ٹریک پر بن چکا ہے