نیویارک، عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف خیراتی اداروں کو 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیدیا
http://www.tnnasia.tv
عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف خیراتی اداروں کو 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
نیویارک کی عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سابق خیراتی ادارے کے فنڈ کو سیاسی اور کاروباری مفادات کے لیے استعمال کرنے پر 20 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ ادا کریں۔
عدالت نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خیراتی ادارواں کو ہرجانے کی رقم ادا کریں تاکہ ریاست کی ڈیموکریٹ اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کی طرف سے دائر کیا گیا دیوانی مقدمہ نمٹایا جاسکے۔
امریکی صدر کے خیراتی ادارے کے خلاف سول مقدمہ ریاست کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے دائر کیا تھا جس میں خیراتی ادارے پر 2016 کی صداتی مہم میں ٹرمپ کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالتی فیصلہ خیراتی اداروں کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی ہماری کوششوں کی فتح ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان افراد کا محاسبہ ہوا ہے جو خیراتی رقوم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اکاؤٹنگ کمپنی کو حکم دیا تھا کہ ان کے 8 سال کے ٹیکس گوشوارے نیویارک میں دائر کیے گئے مقدمے میں درخواست گزار کو فراہم کریں۔
امریکی صدر کے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی درخواست مین ہیٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی سائرس وینس کے دفتر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
دوسری طرف امریکی میڈیا کے مطابق وفاقی جج فریڈمین نے کہا ہے کہ امریکی صدر اپنی مرضی کےخلاف ہرفیصلےپرتنقیدکررہے ہیں، قانونی فیصلوں اورججزپر ان کی باربارتنقیدتباہ کن رویہ ہے۔
جج فریڈمین نے کہا کہ ٹرمپ اپنی مرضی کےخلاف فیصلہ دینےوالےجج کی مذمت بھی کردیتےہیں، وہ کئی معاملات میں عدالتوں اورنظام انصاف کورکاوٹ سمجھتےہیں، وہ ججز اور عدالتوں پرتنقیدسےتباہ کن بیانیےکوفروغ دےرہےہیں، جس سےقانون کی حکمرانی پرعدم اعتمادبڑھ رہا ہے۔
فریڈمین نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ پرحملہ کرنےکےبہت گہرےاثرات پڑرہےہیں، ٹرمپ انتظامیہ مقدمات ہاری ہےتو اس کا سبب یہ نہیں کہ ججز کلنٹن یااوباما کے حامی ہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ قانون اور آئین پسندججزکی عدالتوں سےمقدمات ہاری ہے۔