پاکستان نے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئےسکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور راہ داری کھول دی
پاکستان
نے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے، سکھ مت کے بانی بابا گرونانک کے 550
ویں جنم دن پر سکھ یاتریوں کے لیے آج سے کرتار پور راہ داری کھول دی۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
وزیرِ
اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ سکھ برادری کو گرونانک جی کی 550 ویں سالگرہ مبارک ہو۔
انہوں نے
کہا کہ 10 مہینے کے اندر کمپلیکس بنانے پر ایف ڈبلیو او سمیت تمام ادروں کو
خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنا
زبردست کام کر سکتی ہے، ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب کے لیے رحمت بن
کر آئے۔
عمران خان نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا،
جانوروں میں کمزوروں کے حقوق نہیں ہوتے، جتنے پیغمبر علیہ السلام آئے
انہوں نے انسانیت اور انصاف کی بات کی، جو لوگ بھی اللّٰہ سے قریب تھے، ان
سے لوگ پیار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برصغیر میں آج بھی لوگ اولیاء
کے مزاروں پر جاتے ہیں، کیونکہ وہ انسانیت کے لیے آئے تھے، مجھے یہ خوشی
ہے کہ ہم آپ کے لیے یہ کر سکے، مجھے ایک سال پہلے پتہ چلا کہ سکھوں کے لیے
بابا گرو نانک کی کیا حیثیت ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانیوں کو
کہنا ہے کہ کرتار پور سکھوں کے لیے مدینہ کی حیثیت رکھتا ہے، لیڈر نفرتیں
پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا، افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو رہتی دنیا تک یاد رکھا
جائے گا، لیکن نیلسن منڈیلا نے قومیتوں کو لڑنے سے بچایا، ہمارے دین میں
ایک انسان کا قتل پوری دنیا کا قتل ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ افسوس سے
کہنا پڑتا ہے آج جو کشمیر میں ہورہا ہے انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے، کشمیر
میں 80لاکھ لوگوں کو قید کردیا گیا ہے، کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل
ہوسکتا ہے ، مودی سے کہتا ہوں برصغیر کو آزاد کردیں، مسئلہ کشمیرحل
ہوجاتا تو بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات وہ ہوتے جو ہونے چاہیے تھے، مسئلہ
کشمیرحل ہونے سے برصغیر میں خوشحالی آئے گی۔
بھارت سے سکھ یاتریوں کا
وفد پاکستان پہنچا ہے، بھارت کے سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ، بھارتی
پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ ارمندر سنگھ، بھارتی سیاستداں، کانگریس رہنما اور
سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، اداکار و سیاستداں سنی دیول اور ہزاروں سکھ
یاتری کرتار پور راہداراری کی افتتاحی تقریب میں موجود ہیں جن میں خواتین
بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔