Nov 10, 2019 05:20 pm
views : 252
Location : Press club
Karachi- Rights activists demand arrest of Nimrita's killers
div class="field-data" style="display: block;">
کراچی،ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اورینگ ورکرز کمیٹی کاڈاکٹر نمرتا کے مبینہ قتل کے خلاف احتجاج
ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن
اورینگ ورکرز کمیٹی کی جانب سے لاڑکانہ یونیورسٹی میں میڈیکل کی طالبہ
داکٹر نمرتا کے مبینہ قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے ہاتھوں میں
پلے کارڈ ز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انکے مطالبات درج تھے اس موقع پر
مظاہرین کی جانب سے نعارے بازی بھی کی گئی۔
ہوم بیسڈ وومن ورکرز
فیڈریشن اورینگ ورکرز کمیٹی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب پر احتجاجی
مظاہرے میں مزدور رہنماؤں نےمطالبہ کیا کہ لاڑکانہ یونیورسٹی میں میڈیکل
فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی سے ہاسٹل میں غیر طبعی موت کی رپورٹ کی
روشنی میں قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے جانبدارانہ
کردار پر اس کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے وی سی کو برطرف کیا جائے۔
دوسری
جانب آصفہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کماری قتل کیس میں اہم
پیشرفت سامنے آئی ہے، ہفتے کو کیس کی سماعت کے دوران پوسٹ مارٹم رپورٹ کے
حوالے سے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
نمرتا ہلاکت کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ
سیشن جج اقبال حسین میتلو نے کی۔ دوران سماعت نمرتا کا پوسٹ مارٹم کرنے
والی ڈاکٹر امرتا، وائس چانسلر پروفیسر انیلا عطاءالرحمان اور رجسٹرار
ڈاکٹر شاہدہ مگسی عدالت میں پیش ہوئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دوران
سماعت عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرنے پر ڈاکٹر امرتا کی سرزنش کی۔
انہیں مبہم اور آئینی دائرہ کار سے باہر رپورٹ جاری کرنے پر باقاعدہ طور پر
شامل تفتیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
دوران سماعت سیشن جج نے ڈاکٹر
امرتا سے استفسار کیا کہ پروویژنل پوسٹ مارٹم اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ
میں واضح فرق کیوں ہے؟ آپ سے پولیس نے موت کی وجہ پوچھی تھی، آپ نے رپورٹ
میں گلہ دبانے اور جنسی عمل کی تصدیق کن اختیارات کی بنیاد پر کی؟ عدالت کی
جانب سے پوچھے گئے سوالات کا ڈاکٹر امرتا تسلی بخش جواب نہ دے سکیں اور
کہا کہ وہ پورسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
سسی ہدایت اللہ کا ذرائع
ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے قوم کی
بیٹیوں کے قتل عام کیلئےنہیں ہیں جبکہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نمرتا کے
قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
مبشر علی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات تو ہوتےہیں تاہم اس جانب توجہ نہیں دی جاتی۔