کراچی،آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی بارہویں عالمی اردو کانفرنس
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی بارہویں عالمی اردو کانفرنس کا میلہ سج گیا۔ چار روزہ بارہویں عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا,بھارت کے نامور ادیب شمیم حنفی نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔
بھارت، امریکا، چین، جرمنی اور برطانیہ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے سیکڑوں ممتاز شعراء اور ادباء کراچی پہنچ چکے ہیں۔
عالمی اردو کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر زبردست گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ مداح اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ سیلفیاں بھی بناتے رہے۔ آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ جنرل سیکریٹری اعجاز فاروقی اور دیگر عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔
کراچی کے شہریوں کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ گزشتہ گیارہ برسوں سے مسلسل دنیا کی سب سے بڑی اردو کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں، جب کہ ہر سال اس کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اب یہ دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں برانڈ بن چکی ہے۔
کانفرنس میں ادب، ثقافت، موسیقی، شاعری، ڈراما، فلم ، تعلیم، زبان، رقص، مصوری اور صحافت پر گفتگو ہوتی ہے۔
اس برس بلوچی، پشتو، سرائیکی، پنجابی اور سندھی ادب کے ساتھ ساتھ کشمیر اور خطے میں امن کی صورت حال پر بھی اجلاس کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس کانفرنس کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے کراچی میں علمی، ادبی، تہذیبی و ثقافتی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر کراچی روشنیوں کا شہر بننتا جارہا ہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ یہاں شاعر اور ادیب یہاں ایک دوسرے کو قریب لارہے ہیں ،ہمارے سیاستدانوں کو بھی کچھ سیکھنا چاہیے۔
آرٹس کونسل کے ممبر انجم رضوی کا کہنا تھا کہ ہر سال ہم اسے بہتر کرتے ہیں اس بار علاقائی زبانوں کو بھی اس کانفرنس میں شامل کیا ہے ہم یہاں پر محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔
آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کی ممبر عظمیٰ الکریم کا کہنا تھا کہ اردو بہت بڑی اور وسیع زبان ہے اور ہماری کوششہے کہ اپنی نئی نسل کو اردو زبان کے قریب لائیں۔