کراچی،اساتذہ کا احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج،واٹر کینن کا استعمال
کراچی ميں ملازمت مستقل کرنے کا مطالبہ کرنے کا مطالبہ اساتذہ کو مہنگا پڑگيا۔ پہلے پوليس والوں نے پانی کی توپ چلاکر ڈی آئی جی آفس کے باہر سے بھگایا۔ مظاہرین سندھ اسمبلی پہنچے تو وہاں ڈنڈے برسادیے۔ پی آئی ڈی سی کے قریب پولیس کی جانب سے دوبارہ لاٹھی چارج کیا گیا۔
ملازمت مستقلی کا مطالبہ کرنے پر پولیس والوں نے استادوں پر ڈنڈے چلادیے۔ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنیوالے ٹیچرز پر اہلکار پِل پڑے اور پھر جو ہاتھ آیا اُن کو ڈنڈوں سے مارا گیا۔
ایکشن صرف یہی نہیں ہوا۔ اِس سے پہلے ڈی آئی جی ساؤتھ کے دفتر کے باہر بھی اساتذہ نے دھرنا دیا تھا۔ مگر کچھ دیر برداشت کرنے کے بعد پولیس یہاں بھی ایکشن میں آئی اور اساتذہ پر پانی کی توپ چلادی۔
اساتذہ بیچارے ادھر اُدھر بھاگتے رہے۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا تاہم کچھ دیر بعد رہا کردیا گیا مگر ملازمت مستقلی کیلئے اساتذہ کی پھر بھی کسی نے نہ سُنی۔
مظاہرے میں شریک کامران جعفری کا کہنا تھا کہ کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے اساتذہ کا مستقبل محفوظ نہیں ہے تو قوم کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا۔
فہیم لانگا کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھیوں اور رہنماؤں کا گرفتار کیا ہے جکب کا کوئی پتا نہیں ہے۔
غلام شبیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں سسٹم کے تحت مستقل ہونے کے باجود کنفرم نہیں کیا جارہا ،دنیا میں انقلاب تعلیم کے ذریعے آئے ہیں ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔