Dec 11, 2019 03:00 pm
views : 252
Location : Punjab Institute of Cardiology
Lahore-Violent Clash erupted between 100of lawyers& doctors4 people injured when charged lawyers stormed into Punjab Institute of Cardiology
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلا نے دھاوا بول دیا،ایمرجنسی وارڈ میں ہلڑ بازی،توڑ پھوڑ،وزیر اطلاعات پر تشدد
پنجاب
انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے باہر وکلا کے احتجاج کے نتیجے میں اسپتال میں
داخل مریضوں کے لواحقین میں خوف ہراس پھیل گیا، متعدد وکلاء اسپتال کا گیٹ
زبردستی کھلوا کر اسپتال کے اندر داخل ہو گئے جہاں سیریئس کنڈیشن کے دل کے
مریض داخل ہیں، وکلاء کی ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہو کر ہلڑ بازی، وکلاء نے
ایمرجنسی وارڈ کے داخلی دروازے کے شیشے توڑ دیئے۔چیئرمین گرینڈ ہیلتھ
الائنس ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق وکلاء صف بندی کر کے اسپتال میں داخل
ہوئے اور کارڈیالوجی اسپتال کے اندر توڑ پھوڑ کی، ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس
اسٹاف اور مریضوں کی جانوں کو خدشات لاحق ہیں جبکہ وکلاء نے اسپتال میں
کھڑی گاڑیوں کے بھی شیشے بھی توڑ دیئے۔
وکلاءکا پرتشدد احتجاج کے دوران
اسپتال میں موجود گاڑیاں، گملے اور شیشے سب توڑ دیئے، پولیس خاموش تماشائی
بنی کھڑی رہی جبکہ ایک مریض کا بھائی چلاتا رہا کہ میرے بھائی کے دل کا
آپریشن ہو رہا ہے، وکلاء کیا کررہے ہیں؟ اس دوران بھی وکلاء نے ایک نہ سنی
اور توڑ پھوڑ جاری رکھی۔
دوسری جانب وکلاء کی جانب سے اسپتال کی فوٹیج
بنانے والے صحافیوں پر بھی حملہ کیا گیا ہے، وکلا نے نجی ٹی وی چینل کے
کیمرہ مین پر تشدد کیا، کیمرہ توڑ دیا۔
وکلاء کے احتجاج کی کوریج کرنے
پر خاتون صحافی پر بھی تشدد کیا گیا جبکہ رپورٹنگ کرنے پر ٹی وی چینل کی
رپورٹر کو بھی مارا پیٹا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان
نے کہا ہے کہ میں وکلا کی بہتری کیلئے یہاں آیا تھا مجھے اغوا کرنے کی کوشش
کی گئی، کسی کو غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ
وزیر اعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ انہیں اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو
وزیر اعلیٰ نے موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے اور وہ موقع پر پہنچ چکے
ہیں۔انہوں نے کہا تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی