کراچی،اچھے پولیس افسران کی سندھ حکومت کو ضرورت نہیں ہے،حلیم عادل شیخ
پی ٹی آئی رہنماء حلیم عادل شیخ نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکو راج ہے، حاضر سائیں، حاضر سائیں کی سرکار نے سندھ کو تباہ و برباد کردیا۔
انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں کوئی بات کرے گا اس کی گردن کاٹ دی جائے گی، سندھ میں فرض شناس افسران کو کام سے روکا جارہا ہے،کیا وجہ ہے کہ سندھ میں پولیس افسران خوفزدہ ہیں،والی ریاست سندھ کے مراد علی شاہ پر یوسف ٹھیلے والے کے منہ سے سچ نکا ایس ایس پی کو ہٹا دیا گیا،بسمہ کیس کا پتا نہیں چل سکا ،اچھے پولیس افسران کی سندھ حکومت کو ضرورت نہیں ہے۔
ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کا جرم یہ تھا کہ وہ ان کے لاڈلے بیٹے رائو انوار کی جی آئی ٹی کا ممبر تھا ،انہوں نے نقیب اللہ کیس کی پیروی کی،پیپلزپارٹی نےپولیس افسران کے بولنے پر بھی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سندھ کے بچے ایڈز میں مبتلا ہوگئے میں آواز اٹھاتا رہوں گا،تھرپارکر میں بچے مر گئے کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک نہیں،مٹھی میں اسپتالوں میں مریضوں کا کھانا بند ہوگیا ایمبولنس کو پیٹرول نہیں دیا جاتا،خواتین اپنے بچوں کی لاشوں کو اٹھانے کے لئے بھیک مانگ رہی ہے،ہم ہر سطح پر جائیں گے اور سندھ حکومت کے غیر قانونی کاموں سے روکیں گے۔
ممبر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ سچ بولنے والوں کو کالے پانی کی سزا دی جاتی ہے، انہیں صرف چور، منشیات فروش اور دو نمبر لوگ کھپے،کرپشن کے حمام میں مرتضی ا وھاب بھی نہا چکے ہیں،ہارٹیکلچر کی کرپشن مرتضا وہاب کے ذریعے کی گئی،سندھ حکومت نے غیر قانونی ایڈوائزر لگائے ہوئے ہیں انکے خلاف سپریم کورٹ میں جارہے ہیں۔