Dec 19, 2019 07:03 pm
views : 264
Location : Different Places
Dubai- High Treason Case Was Personal Vendetta Pervez Musharraf
دبئی،مجھے چند لوگوں کی وجہ سے ذاتی عداوت کا نشانہ بنایا گیا ،مشرف
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی سزائے موت کا 169صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
اسلام
آباد میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں جسٹس شاہد فضل کریم اور
جسٹس نذر محمد پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو
سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ جسٹس وقار
سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے فیصلہ تحریر کیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائی
کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد فضل کریم نے
سزائے موت سنائی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اللہ اکبر نے اختلافی نوٹ
لکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کی ٹیم غداری کا مقدمہ ثابت نہیں کرسکی۔
فیصلے
میں کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا، ان
پر آئین پامال کرنے کا جرم ثابت ہوتا ہے اور وہ مجرم ہیں، لہذا پرویزمشرف
کو سزائے موت دی جائے۔
اس سے قبل خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد پرویز
مشرف نے ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ایسےفیصلےکی
پہلےکوئی مثال نہیں ملتی جو خصوصی عدالت کی جانب سے جاری کیا گیا کیونکہ
ملزم اور اُس کے وکیل کو دفاع کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔
اُن کا کہنا تھا
کہ میں نے تحقیقاتی کمیٹی کوبیان دینے اور اسپیشل کمیشن کو بیان ریکارڈ
کرانےکی پیشکش کوبھی مستردکیاگیا، میں نےخصوصی عدالت کافیصلہ ٹی وی پرسنا،
کیس میں قانون کی بالادستی کا خیال نہیں رکھا گیا۔
سابق صدر کا کہنا تھا
کہ پاکستانی عوام اور فورسز کاشکرگزار ہوں جنہوں نےمجھے یادرکھا، یہ
میرےلیےتمغہ ہے اسےقبرمیں لےکرجاؤں گا، اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان
قانونی ٹیم سےمشاورت کے بعدکروں گا، عدلیہ پر اعتماد ہے انصاف دےگی اور
قانون کی بالادستی یقینی بنائےگی۔