Jan 07, 2020 04:10 pm
views : 238
Location : National Assembly
Islamabad- Army Act Amendment Bill passed unanimously in the National Assembly
اسلام آباد،قومی اسمبلی کا اجلاس، آرمی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا
تاریخ ساز قانون سازی کیلئے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، وزیر دفاع پرویز خٹک نے پیپلز پارٹی سے بل کی ترمیم سے متعلق تجاویز واپس لینے کی درخواست کی جس پر پیپلز پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے لئے اپنی ترامیم واپس لے لیں۔
وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پاک آرمی، پاک نیوی، پاک ایئر فورس ایکٹس میں ترامیم کے بلز کی شق وار منظوری لی۔ اسد قیصر نے بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام تک ملتوی کر دیا۔
خیال رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سمیت تینوں مسلح افواج سے متعلق سروسز ایکٹ میں ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور کئے۔
قائمہ کمیٹی دفاع کا اجلاس چیئرمین امجد علی خان کی زیر صدارت ہوا، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت وزارت دفاع کے حکام نے شرکت کی، اجلاس کے دو سیشن ہوئے، پہلے سیشن کا ایجنڈا معمول کے امور پر تھا جبکہ دوسرے سیشن میں آرمی، نیوی اور ایئر فورس ایکٹس میں ترامیم کا معاملہ ان کیمرا زیر بحث آیا۔
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے تینوں بلوں کے پہلوؤں پر بریفنگ دی جس کے بعد تینوں بل متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے متفقہ طور پر بل منظور ہونے پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ہم سب کا ملک ہے، فوج کیساتھ تمام جماعتیں اور پورا پاکستان کھڑا ہے۔
وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا کہ اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے ترامیم پیش کی گئیں، اس پر انہیں وضاحت کی کہ اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، اب یہ بل پارلیمنٹ میں جائے گا، اجلاس میں ایک بھی رکن نے مخالفت نہیں کی، اگر بل کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں میں سے کسی کا جائز پوائنٹ ہے تو اس کو لازمی سنیں گے، وزارت قانون تمام جماعتوں کی عزت کرتی ہے، پاکستان کی سکیورٹی اور اداروں کے حوالے سے ترامیم پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں دیگر ممالک سے ملزمان کے تبادلے کا باہمی قانونی معاونت (فوجداری معاملات) بل 2019 اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بل کے تحت کسی بھی ملک کو باہمی قانونی معاونت دو طرفہ طے کردہ اقرار نامے کی بنیاد پر ہوگی، دیگر ممالک سے باہمی قانونی معاونت کے لیے سیکریٹری داخلہ بطور مرکزی اتھارٹی کام کرے گا۔