راولپنڈی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آرمی چیف کو امریکی وزیردفاع کا فون
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم سب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرکے خطے میں قیام امن کے لئے بہت کام کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں، خطے میں امن کیلئے ہرقسم کی کاوش کی حمایت کریں گے۔
سربراہ پاک فوج نے مزید کہا کہ ہم افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لئے اپنا تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے، چاہتے ہیں افغان امن عمل پٹڑی سے نہ اترے اور خطہ نئے تنازعات کی بجائے تنازعات کے حل کی طرف گامزن ہو۔
آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وزیردفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ امریکا بھی جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جواب ضروری ہوا تو امریکا بھرپور قوت سے جواب دے گا۔
بعد ازاں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایران اور چین کے سفیروں نے الگ الگ اہم ملاقات کی ہے۔پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ سپہ سالار سے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے ملاقات کے دوران بھی امریکا، ایران سمیت مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔