کوئٹہ، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکہ، ڈی ایس پی سمیت 12 افراد شہید ، متعدد زخمی ہوگئے
http://www.tnnasia.tv
کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد میں ہونے والے زودار دھماکے میں ڈی ایس پی امان اللہ سمیت 12 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے موقع پہنچیں اور علاقے کو تمام قسم کی آمدورفت کیلئے سیل کردیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں پولیس کے ڈی ایس پی امان اللہ سمیت 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں جنہیں ایمبیولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
یہ دھماکا سیٹیلائٹ ٹاؤن کی مسجد میں ہوا جہاں نماز مغرب کے وقت بہت سے نمازی موجود تھے۔
دھماکا
اس قدر زوردار تھا کہ آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے سے فورسز کی گاڑی،
متعدد موٹر سائیکلوں اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کے بعد
علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ امدادی ٹیموں اور ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر
جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔پولیس کے مطابق دہشتگردی میں 7 سے 8 کلو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔ سی ٹی ڈی کے عملے نے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کر دی ہے۔وزیراعظم
عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان
پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد
فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کوئٹہ شہر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے سول
ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ضیا لانگو
کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں
کوئٹہ کے علاقے میکانگی روڈ پر بھی گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول موٹر سائیکل
بم دھماکا ہوا تھا جس میں دو شہری جاں بحق جبکہ 2 اہلکاروں سمیت 18 افراد
زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کی اہم تجارتی شاہراہ
میکانگی روڈ پر امن دشمنوں نے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل کو اس وقت ریموٹ
کنٹرول سے اڑا دیا جب فورسز کی گاڑی وہاں آ کر رکی۔