کراچی، متحدہ اور پی ٹی آئی کے مذاکرات، خالد مقبول وزارت چھوڑنےکے فیصلے پر قائم
حکومت کی سب سے اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کے خاتمے کیلئے پی ٹی آئی کا وفد بہادرآباد میں واقع پارٹی کے عارضی مرکز پہنچا۔ اسد عمر کی سربراہی میں آنے والے وفد میں حلیم عادل شیخ، خرم شیرزمان اور فردوس شمیم نقوی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید جمیل سمیت دیگر نے استقبال کیا۔
مذاکرات کے دوران اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوگئے، اب ناراضگی ختم کریں، ایم کیو ایم کے مطالبات درست ہیں انہیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے۔ جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے۔ ایک ارب دینے کے لیے کتنی منت سماجت کرنا پڑے گی اور ہم اپنے لیے نہیں بلکہ کراچی کا حق مانگ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پچھلے ہفتے ہماری اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی، کراچی کے منصوبوں پر ایم کیو ایم سے بات چیت ہوئی۔ ہم مستقبل میں بھی ساتھ مل کر چلیں گے، ایم کیو ایم کو بتایا معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ کراچی کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر جلد کام شروع ہوگا، کراچی کے لیے162 ارب سے زیادہ کے منصوبے ہوں گے، وزیراعظم کراچی آکر مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔
اسد عمر نے کہا کہ کبھی کبھی انسان کا دل کرتا ہے کابینہ میں نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، 7 ماہ میں بھی کابینہ کے باہر گزار کر آیا ہوں۔ خالد مقبول صدیقی وزارت چھوڑنے کےفیصلے پرقائم ہیں، ہماری خواہش ہےکہ خالد مقبول صدیقی کابینہ کا حصہ رہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گورنرسندھ زبردست کام کررہے ہیں، ان کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔حکومتی وفد کی بہادر آباد آمد سے قبل گورنر ہاؤس میں سندھ انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور کراچی بحالی کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا تاہم ایم کیو ایم اور میئر نے اس میں شرکت نہیں کی۔