واشنگٹن، مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری سے مسائل کا حل چاہتے ہیں، وزیر خارجہ
واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز سے خطاب اور سینئر سینیٹر لنزے گراہم اور امریکی سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف امن کا شراکت دار ہے۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے، پاک امریکا تعلقات صرف افغانستان کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہے، پاکستان کا عرصے سے مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں، افغانستان میں امن مشترکہ ذمہ داری ہے، افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں استحکام نہیں آ سکتا۔
شاہ محمود نے کہا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی افواج مقبوضہ وادی میں مظالم ڈھا رہی ہے، ہزاروں نوجوان اس وقت قید میں ہیں، عمران خان نے بی جے پی، آر ایس ایس گٹھ جوڑ سے دنیا کو خبردار کیا تھا، پلوامہ واقعے میں بھارت نے دنیا کو گم راہ کیا، سیکولر کہلانے والے بھارت میں بابری مسجد شہید کی گئی، جب کہ پاکستان نے بھارت سمیت پوری دنیا کے لیے کرتارپور راہ داری کھولی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فوجی تربیتی پروگرام کی بحالی پاک امریکا دفاعی تعلقات کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔پاکستان اور امریکا کے مابین دفاعی اور سیکورٹی تعاون، ہمارے دو طرفہ تعاون کی اہم کڑی ہے۔