Jan 20, 2020 07:33 pm
views : 254
Location : Domestic Place
Karachi- Pakistani media faced severe sanctions and problems in 2019, CPNE
کراچی، 2019 میں پاکستانی میڈیا کو سخت پابندیوں اور مسائل کا سامنا رہا، انسداد دہشت گردی کے تحت 35 مقدمات میں 60 صحافی نامزد ہوئے، سی پی این ای کی رپورٹ
رپورٹ میں ملک بھر میں صحافت اور صحافیوں کو درپیش صورت حال اور مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ آئین کی شق 19 اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے تاہم سال 2019 کے دوران پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس رہی ، سی پی این ای کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کو متعارف کراتے وقت یہ بتایا گیا تھا کہ یہ قانون سائبر کرائمز، خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے استعمال ہو گا اور اسے صحافیوں و میڈیا کے خلاف ہرگز استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن ان دعوؤں کے برخلاف اسے میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے کسی نہ کسی بہانے سے سال 2019 میں بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے میڈیا کے گرد شکنجے کو مزید سخت کرنے کے لیے خصوصی میڈیا ٹریبونلز بنانے کا بھی اعلان کیا تھاتاہم سی پی این ای اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی شدید مخالفت کی وجہ سے حکومت نے اس تجویز کو واپس لینے کافیصلہ کیا۔
رپورٹ میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ خراب ترین کارکردگی والے 180 ممالک میں پاکستان کا نمبر 142 واں ہے جو پاکستان میں جمہوریت اور آزادی اظہار کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔
انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت 35 مقدمات میں 60سے زائد صحافیوں کو نامزد کیا گیا۔ تحریری مواد رکھنے کے الزام میں ایک صحافی کو 5 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔