Sep 13, 2021 05:35 pm
views : 294
Location : National Assembly
Islamabad- Opposition boycott joint session of parliament
اسلام آباد، صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران اپوزیشن کا شور شرابا اور واک آؤٹ، ڈاکٹر عارف علوی کہتے ہیں آپ شور مچائیں مگر حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا۔اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی گئی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صلاحیتوں کی بدولت ابھرتے چمکتے پاکستان کی منزل پالیں گے، کورونا کے مثبت اثرات کے سبب دنیا کی معیشت سکڑیں جبکہ پاکستان کی معاشی کارکردگی بہت بہتر رہی، پاکستان میں معیشت کی نمو کورونا کے باوجود بہتر رہی۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد 60 فیصد بڑھا ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بہتر کارکردگی کے حوالے سے ماضی کے ریکارڈ توڑ ڈالے، عوام کو بات سمجھ آگئی ہے۔تعمیراتی شعبے میں تاریخی ترقی کا سہرا وزیراعظم عمران خان کے سر جاتا ہے، زرعی شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کی آن لائن تربیت کا پروگرام بھی قابل ذکر ہے، اب تک 17لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارت کی تربیت دی جاچکی ہے۔ماضی میں حکومتوں نے کارخانوں اور صنعتوں سے ترقی کی، ملک صنعتی انقلاب سے گزر رہا ہے جسے شور شرابے سے نہیں روکا جاسکتا۔
خیال رہے کہ ایوان میں وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز، صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے علاوہ غیر ملکی سفرا ،قائد حزب اختلاف شہباز شریف سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں میں بلاول بھٹو زرداری اور شاہد خاقان عباسی بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک تھے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا کہ بینرز اٹھا کر اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے۔اپوزیشن ارکان نے حکومتی کارکردگی کےخلاف نعرے بازی کی اور میڈیا کی آزادی کے نعرے بھی لگائے گئے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے صدر مملکت کی تقریر کے دوران احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔