اسلام
آباد، وزیراعظم نے چین کی رضا مندی سے سی پیک اتھارٹی تحلیل کرنے کی
منظوری دیدی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی کہتے ہیں دو ہزار چودہ میں قائم پرانے
ادارہ جاتی انتظامات کو بحال کیا جائیگا
وزیراعظم
شہباز شریف نے باضابطہ طور پرسی پیک اتھارٹی کو ختم کرنے کی منظوری دے دی
جو چین کی رضامندی سے مشروط ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اربوں ڈالر
کے منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد میں مدد ملے گی۔یہ فیصلہ 2ماہ قبل وزارت
منصوبہ بندی کی جانب سے بھیجی گئی اس سمری کی بنیاد پر کیا گیا جس میں سی
پیک اتھارٹی کو تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی تھی جو اپنے قیام سے ہی متنازع
ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اسٹریٹجک اتحادی
چین کو سب سے پہلے اعتماد میں لیا جائے کہ سی پیک اتھارٹی کی تحلیل سے یہ
تاثر نہ لیا جائے کہ پاکستان سی پیک منصوبے کو رول بیک کر رہا ہے۔
وزیر
منصوبہ بندی نے کہا کہ چینی حکام کی رضامندی کے بعد سی پیک اتھارٹی ایکٹ
منسوخ کر دیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ چین نے سی پیک کے نفاذ کے طریقہ
کار کے بارے میں پاکستان کے اندرونی فیصلہ سازی میں مداخلت نہیں کی اور
ماضی میں اس کا نام ایسے لوگوں کو بے اثر کرنے کے لیے غلط استعمال کیا گیا
جو سی پیک اتھارٹی میں فوجی بالادستی کے حق میں نہ تھے، سی پیک اتھارٹی کو
تحلیل کرنے کا فیصلہ (ن) لیگ کی پرانی پالیسی کے مطابق ہے جس کے مطابق وہ
مذکورہ اتھارٹی جیسے متوازی سیٹ اپ کے قیام کے حق میں نہیں ہے۔
احسن
اقبال نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی سی پیک منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد میں
رکاوٹ بنی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وزارت منصوبہ بندی سہولت کار کا کردار
ادا کرے گی جبکہ سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد متعلقہ وزارتوں کے ہاتھ میں
ہوگا۔