شہر قائد این اے 245 کی نشست پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ
شہر قائد این اے 245 کی نشست پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا جس کے بعد اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
میڈیا
رپورت کے مطابق این اے 245 میں ضمنی انتخاب کے میدان میں 17 امیدوار
مدمقابل ہوئے۔ پی ٹی آئی نے محمود مولوی اور ایم کیو ایم نے معید انور کو
میدان میں اُتارا جبکہ ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کی جانب
سے سید حفیظ الدین مقابلے میں شامل ہوئے۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف)
نے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا۔
ایم کیو ایم سے
ناراضی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں آزاد
اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا، این اے 245 پر 2018ء کے عام انتخابات میں
پی ٹی آئی کے عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست
دی تھی۔
ضمنی انتخاب کے لیے 263 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے جس میں 60 کو
حساس اور 203 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا جبکہ کوئی بھی غیر حساس نہیں
تھا۔ فوج اور رینجرز کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود رہے، پولیس نے بھی
امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان بنایا۔
حلقے
میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار 33 ہے، 2 لاکھ 74 ہزار 987 مرد
اور 2 لاکھ 40 ہزار 16 خواتین ہیں۔ ضمنی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن اسلام
آباد میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا۔
قبل ازیں کراچی پولیس کے چیف
جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ 263 پولنگ اسٹیشنز پر 6 ہزار سے زائد کی
نفری موجود ہے، 1048 پولنگ بوتھ بنائے گئے، ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک افسر
اور 10 جوان تعینات کیے گئے۔
ووٹ ڈالنے کیلئے آئی ایک خاتون منگلا شرما کا کہنا تھا
الیکشن
کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے یہ
الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پریذائیڈنگ آفیسرز لگا
دیا گیا ہے ، سیاسی جماعت کا یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، تمام
پریذائیڈنگ افسران سرکاری ملازم ہیں اور ان کی تعیناتی قانون کے مطابق کی
گئی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عامر لیاقت کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔a