اسلام
آباد، عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش، ضمانت قبل از گرفتاری
منظور، اے ٹی سی عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم کی ایک لاکھ روپے کے
مچلکوں کے عوض ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کی گئی
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہو گئے، جہاں ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی گئی۔
سابق
وزیر اعظم عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچے۔ ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے
رہنما اسد عمر، پرویز خٹک، زلفی بخاری اور فواد چودھری بھی موجود تھے۔اس
موقع پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں
دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پہلی ایف آئی آر دیکھیں،
مجسٹریٹ علی جاوید مقدمے کا مدعی ہے۔
وکیل عمران خان نے عدالت کو بتایا
کہ پراسیکیوشن کے مطابق 3 لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں۔ آئی جی،ایڈیشنل آئی جی
اور مجسٹریٹ زیبا کا نام لکھا گیا۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی مدعی نہیں
بنا اور پولیس نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا۔ شرم کرو کو دھمکی بنا دیا
گیا ورنہ کئی وزیر اس حکومت کے اندر ہوتے۔
بابر اعوان نے دلائل دیتے
ہوئے کہا کہ آئی جی اور ڈی آئی جی کو کہا تمہیں نہیں چھوڑنا، کیس کریں گے۔
اسی لیے اقوام متحدہ نے نوٹس لیا ہے پوری دنیا چیخ اٹھی ہے۔ مجسٹریٹ صاحبہ
زیبا آپ بھی تیار ہو جائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لیں گے۔ ہم نے ایکشن لیا
اور ہم ہائیکورٹ گئے ہیں۔
بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج
راجا جواد عباس نے عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور
کرتے ہوئے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے اور یکم ستمبر کو دوبارہ
پیش ہونے کا حکم دیا۔