فیصل واوڈا نے غلطی تسلیم
کرلی ، تاحیات نااہلی ختم ، 5سال کے لیے نااہل قرار ، فیصل واوڈا آئندہ
جنرل الیکشن اور سینٹ انتحابات کے لیے اہل قرار
سپریم
کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رہنما فیصل
واوڈا کے مستعفی ہونے اور غلطی تسلیم کرنے پر تاحیات نااہلی ختم کردی ،
انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے سینیٹر شپ سے بھی استعفیٰ دے دیا۔
سپریم
کورٹ میں نااہلی کیس کی سماعت کے دوران فیصل واوڈا نے امریکی شہریت سے
متعلق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ
لی۔ استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا موجودہ اسمبلی کی مدت تک نااہل ہوں
گے۔فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ غلط بیان
حلفی پر افسوس اور شرمندہ ہوں۔
سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن
کمیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کلعدم قرار دیا اور فیصل واوڈا کو اپنا
استعفیٰ فوری چیئرمین سینیٹ کو بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فیصل واوڈا کو
آئندہ عام انتخابات اور سینیٹ انتحابات کے لیے بھی اہل قرار دے دیا۔
دوران
سماعت چیف جسٹس نے فیصل واوڈا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کہہ دیں کہ اس
وقت کے قانون کے مطابق آپ رکن اسمبلی بننے کے اہل نہیں تھے، 15 جون 2018 کو
آپ نے امریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست دی لیکن شہریت ترک کی نہیں تھی،
غلطی تسلیم کرتے ہیں تو آپ موجودہ اسمبلی کی مدت شروع ہونے سے نااہل تصور
ہوں گے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ شہریت ترک کرنے کا
سرٹیفکیٹ کب کا ہے اور اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ کب دیا؟ جس پر فیصل واوڈا
نے بتایا کہ دوہری شہریت 25 جون 2018 کو ترک کی جبکہ قومی اسمبلی کی نشست
سے استعفیٰ 30 مارچ 2021 کو دیا تھا۔
قبل ازیں، سپریم کورٹ کے باہر ایک
صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ میں پی ٹی آئی میں
نہیں ہوں۔ صحافی نے ان سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ نے آپ کو 2 آپشنز دیے
ہیں، کیا آپ اپنی غلطی تسلیم کریں گے؟ فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ عدالت جو
حکم کرے گی، میں وہی کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان آئیں گے، جلسہ
کریں گے اور وہاں سے سیاست شروع ہوگی۔ عمران خان کے بارے میں نہ پہلے بات
کی، نہ اب تسلیم کروں گا۔