Dec 13, 2022 12:38 pm
views : 320
Location : Different places
Islamabad- PTI-ruled provinces demand 'rightful' payment of funds by Centre
پنجاب، کے پی، جی بی اور
آزاد کشمیر حکومتوں کی وفاق کیخلاف پریس کانفرنس ، کے پی، جی بی اور آزاد
کشمیر حکومتوں کے شہباز حکومت پر سنگین الزامات اور تنبیہہ ، وزیر اعلیٰ کے
پی کے کا کہنا ہے کہ وفاق نے مدد نہ کی تو ہماری حکومت ڈیفالٹ کر جائے گی
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر حکومتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔
خیبرپختونخوا،
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے وفاقی حکومت پر فنڈز روک کر
انہیں دیوار سے لگانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام
آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے
کہا کہ ہمارے فنانشل مسائل ہیں، بار بار کہا مگر حل نہ ہوئے۔ 1.3ٹریلین کا
بجٹ اس بار خیبر پختونخوا میں دیا ہے۔ یہ عمران خان کے کہنے پر اتنا زیادہ
بجٹ رکھا۔ بدقسمتی سے وہ پیسے ہمیں نہ مل سکے۔ انہوں نے حکومت پر الزام
عائد کیا کہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہمیں دیوار سے لگادے۔
محمود خان کا
کہنا تھا کہ آج وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کھل کر اپنی عوام کی آواز بلند کررہا
ہوں۔ وفاق سے کہہ رہے ہیں ہمیں ہمارا فنڈ دے دیں۔ یہ ہمارا حق ہے ہم آپ سے
بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔ ایکس فاٹا کا فنڈ ابھی تک ہمیں نہیں مل سکا۔ ہمیں
فنڈ نہیں مل رہے تو ہم خاک ترقیاتی کام کرینگے؟ یہ کہتے ہیں خیبرپختونخوا
کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں تو ہمارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے جب یہ
دے ہی نہیں رہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشیدنے پریس کانفرنس
میں وفاق کے خلاف شکایات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ
شہباز حکومت چاہتی کیا ہے۔ مسائل حل نہ ہوئے تو ہم ہڑتال کریں گے ، ہمارا
بلاک ایلوکیشن 18 ارب کا تھا۔ ہماری حکومت کا پورٹ فولیو 48 ارب تک گیا۔
گلگت بلتستان کا بجٹ 40 ارب سے 25 ارب کردیا گیا ہے۔ تاریخ میں ایسی دشمنی
اس خطے کیساتھ نہیں ہوئی۔ جو بھی سیاسی حکومت آئی انہوں نے گلگت بلتستان سے
ایسی دشمنی نہیں کی۔ انہوں نے آتے ہی ہمارا ترقیاتی بجٹ کاٹا۔
انہوں نے
کہا کہ سیلاب میں 3 ارب روپے کا اعلان کیا گیا، جو لسٹ میں نے دیکھی اس
میں گلگت بلتستان شامل ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا 40 ارب روپے دینگے۔ اس
وقت گلگت کے اندر 40 مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ہم لوگوں کیساتھ
احتجاجی مظاہروں پر جارہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ پنجاب محسن
لغاری نے کہا کہ 167.4بلین روپے پنجاب کے ہیں، جو وفاق نہیں دے رہا۔
اعلانات ہوتے رہے لیکن سیلابی صورتحال میں پنجاب میں ایک روپیہ بھی نہیں
دیا گیا۔ عمران خان کے ٹیلی تھون کے ذریعے 14 ارب روپے دے گئے۔ سندھ کے
بھائیوں اور بلوچستان کے بھائیوں کا سیلاب میں نقصان ہوا، خیبرپختونخوا اور
گلگت بلتستان میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی۔
آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ
نے کہا کہ ہمارا وفاق کے ساتھ ایک معاشی معاہدہ ہے لیکن موجودہ وفاقی
حکومت نے آکر سب سے پہلے آزاد کشمیر کو نشانہ بنایا۔ وفاقی حکومت ہمارے
ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ہمارے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے
لیے پیسے نیہں۔
وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان نے پریس کانفرنس
میں کہا کہ کشمیر کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا تھا ہم آتے ہی معیشت
کو اوپر لے جائیں گے۔ عمران خان کی حکومت میں 6 ہزار ارب ایف بی آر نے
اکھٹا کیا۔ انہوں نے ہمارا شیئر ہر صورت میں دینا ہی دینا ہے۔ انہوں نے آتے
ہی سب سے پہلے کشمیر کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے
پہلى بار لائن آف کنٹرول پر بیٹھے عوام کو ہيلتھ کارڈ کا منصوبہ شروع کيا،
انہوں نے آتے ساتھ اسے بھی ختم کرديا۔ نالہ لئی کے لیے 70 ارب دے سکتے ہیں
مگر رياست کشمیر کے لیے 26 ارب حکومت کے پاس نہیں ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کى
وجہ سے آزاد کشمیر میں بلدياتى انتخابات ہوئے۔ وفاقى حکومت سے پوليس کى
اپيل کى، وہ بھی نہیں دى گئى۔ 30 سال بعد پرامن بلدياتى انتخابات کا کريڈيٹ
پى ٹى آئى کى حکومت کو جاتا ہے ۔