Dec 27, 2022 12:16 pm
views : 359
Location : Islamabad high court
Islamabad- Toshakhana row: IHC seeks report on gifts given to PMs, presidents since 1947
اب تک کے صدور اور وزرائے
اعظم کو ملے تحائف کی تفصیل طلب ، قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ تحائف کی
تفصیلات دینے کی درخواست سماعت کیلیے مقرر ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے
کابینہ ڈویژن سے 1 ماہ میں رپورٹ طلب کر لی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے اب تک صدور اور وزرائے اعظم کو ملنے والے تحائف سے متعلق کابینہ ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی۔
اسلام
آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے قیام پاکستان سے اب تک
صدور اور وزرائے اعظم کو ملنے والے تحائف کی تفصیل دینے کی ابوذر سلمان
نیازی کی درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے
عدالت کو بتایا کہ پٹیشنر نے 1947ء سے اب تک کے صدور اور وزرائے اعظم کو
ملے تحائف کی تفصیل مانگی ہے، تاہم کابینہ ڈویژن نے کلاسیفائیڈ کہہ کر
معلومات کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے، پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 29 جون
کو آرڈر دیا تھا مگر 5 ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
جسٹس
میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ باقی پبلک سرونٹس کو بھی اس میں شامل کیوں
نہیں کیا؟ آپ خود کو صدر اور وزیراعظم کی حد تک محدود کیوں کر رہےہیں؟ اس
سے آپ کے عزائم کا پتا چل رہا ہے، جو بھی پٹیشن آتی ہے وہ وزیر اعظم سے
متعلق آتی ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرےخیال سے 1990
سے پہلے کا تو ریکارڈ ہی دستیاب نہیں ہوگا، ایسی معلومات تو ویب سائٹ پر
ہونی چاہئیں۔
عدالت نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ توشہ خانے کا ریکارڈ دستیاب ہو، ریکارڈ ملے تو دے دیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ضمن میں کابینہ ڈویژن سے 1 ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔
عدالتِ عالیہ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کر دیا۔
عدالت
نے مختصر سماعت کے بعد پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر عملدرآمد نہ
کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کردیا اور ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔