Mar 08, 2023 07:45 pm
views : 350
Location : Different Places
Islamabad - With hard times and default risk over, the country will prosper
مشکل وقت اور ڈیفالٹ
خطرہ ختم، ملک ترقی کرے گا، آرمی چیف کی کاروباری شخصیات کو یقین دہانی،
آرمی چیف پوری ملاقات کے دوران پرامید نظر آئے اور اس اعتماد کا اظہار
کیا کہ موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پا لیا جائے گا
آرمی
چیف جنرل سید عاصم منیر نے پیر کو ملک کی 10؍ سرکردہ کاروباری شخصیات سے
ملاقات کی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی موجودگی میں انہیں یقین دہانی کرائی
کہ پاکستان مشکل معاشی حالات سے کامیابی سے باہر نکل آئے گاڈیفالٹ کا
خطرہ ٹل چکا ہے، ملک ترقی کرے گا اور ہم ایک خوشحال قوم بن کر ابھریں
گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملاقات کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی بیان
سامنے نہیں آیا آرمی چیف پوری ملاقات کے دوران پرامید نظر آئے اور اس
اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پا لیا جائے گا۔انہوں
نے کاروباری افراد سے کہا کہ وہ پرعزم اور پراعتماد رہیں۔ آرمی چیف نے
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو بتایا کہ قوم پر مشکلات
آتی ہیں اور ہمیں مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن بدتر حالات کو ہم پیچھے
چھوڑ چکے ہیں اور ہم قائم و دائم رہیں گے۔
آرمی چیف اور وزیر خزانہ نے
کاروباری افراد کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط کو پورا کر
دیا گیا ہے اور چند روز میں ہی معاہدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی
ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ معیشت میں تیزی لانے کیلئے دوست ممالک سے کیے
جانے والے معاہدوں کو بھی دستاویزی شکل دی جائے۔ کاروباری افراد کو بتایا
گیا کہ دوست ممالک نے بھی وعدے کیے ہیں کہ وہ زراعت، کان کنی اور آئی ٹی
کے شعبہ جات میں سرمایہ کاری کریں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ ان ممالک سے
پیشگی سرمایہ (ایڈوانس ایکوئٹی) ملے گا۔ملاقات میں زیادہ تر معاشی معاملات
پر گفتگو ہوئی تاہم کچھ سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے آرمی چیف جنرل
عاصم منیر نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے مجھ سے ملاقات کی
خواہش ظاہر کی تھی اور پیغام بھجوایا مگر میرا جواب یہی تھا کہ بطور
آرمی چیف میرا کیا کام ہے کہ میں سیاستدانوں سے ملاقات کروں میرا پیغام
یہی تھا کہ سیاستدان خود آپس میں مل کر سیاسی مسائل حل کریں، فوج سیاست
میں مداخلت نہیں کرے گی اور سیاسی کردار ادا نہیں کرے گی آرمی چیف سے
ملاقات کیلئے آئے ان دس کاروباری افراد میں سے پانچ کا تعلق کراچی جب کہ
پانچ کا لاہور سے تھا، کاروباری افراد نے اس ملاقات کو انتہائی کامیاب قرار
دیا۔