چترال،سیلاب کی تباہ کاری سے ہلاک ہونے والی افراد کی تعداد29 ہوگئی
چترال کے علاقے ارسون میں طوفانی بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں کے
نتیجے میں 29 افراد جاں بحق، درجنوں مکانات اور دیگر املاک تباہ ہوگئیں۔
تفصیلا ت کے مطابق چترال کے علاقے ارسون میں طوفانی بارشوں نے تباہی
مچادی جس کے نتیجے میں 29 افراد جاں بحق اور کئی مکانات ریلے میں بہہ گئے۔
صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور پاک فوج، چترال
اسکاؤٹس، بارڈر پولیس اور چترال پولیس کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں ، اب
تک 17 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ متعدد زخمیوں اور محصور افراد
کو طبی مراکز اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔
چترال کے ضلع ناظم مغفرت شاہ کے مطابق سیلاب رات 10 بجے کے قریب آیا،
ارسون گاؤں کے35 گھر مکمل تباہ ہوگئے جبکہ48 کو جزوی نقصان پہنچا، ایک مسجد
ریلے میں بہہ جانے سے16 نمازی، ایک فوجی چوکی بہہ جانے سے8 جوان جاں بحق
ہوگئے۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے6 افراد بھی شامل ہیں،17 افراد کی
لاشیں نکال لی گئیں ہیں، ان میں سے 5 افغان علاقے سے ملی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ نے صحافیوں کوبتایا کہ متاثرہ علاقوں میں
امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور متاثرین کومحفوظ مقامات پر
پہنچانے کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش کی فراہمی بھی جاری ہے۔ صورتحال سے
نمٹنے کیلئے ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقے دور افتادہ
ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات بھی درپیش ہیں۔
ڈی پی او چترال آصف اقبال نے بتایا کہ جنوبی چترال میں سیلاب سے بڑے
پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ پاک فوج کی طرف سے50 ٹینٹ اور راشن موقع پر
پہنچا دیے گئے ہیں۔
سیلابی ریلہ مسجد، مکانوں اور فوجی چیک پوسٹ کو بہا کر ساتھ لے گیا۔ امام
مسجد سمیت 15 نمازی، بچے، بوڑھے اور خواتین ایسے بہے کہ کئی گھنٹوں بعد 13
لاشیں افغان علاقے سے برآمد ہوئیں، جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان
کے 6 افراد بھی شامل ہیں۔ سیلابی ریلے سے ارسون میں قیمتی جانیں ضائع ہونے
کے علاوہ انفرااسٹرکچر بھی تباہ ہوگیا ہے، نہ سڑکیں بچی ہیں اور نہ ہی پل،
برساتی نالے دلدل بن چکے ہیں جبکہ نِگر کے مقام پردریائے چترال جھیل میں
بدل گیا ہے جس میں 10 مکان بھی ڈوب گئے ہیں۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان
نہیں ہوا۔ موسلادھار بارش کے بعد لواری ٹاپ بھی سیلابی ریلے کی زد میں ہے
اورپشاور، چترال شاہراہ بند ہوگئی ہے۔
وزیر ا علی خیبرپختونخوا ہ پرویز خٹک نے چترال میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے
بیش قیمت انسانی زندگیوں کے ضیاع اور املاک کے نقصانات پر تشویش کا اظہار
کیا اور فوری طور پر ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔
وزیراعلی نے ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے حکام او رریسکیو آپریشن تیز
ترکرنے کی ہدایت کی اور اس مقصد کیلئے ایک ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیا گیا ہے
تاکہ ریسکیو ریلیف اور امدادی سرگرمیوں اور آپریشن میں بھر پور حصہ لیا جا
سکے۔
حکومت خیبرپختونخوا ہ کے ترجمان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے معاون خصوصی
مشتاق غنی نے کہا ہے کہ چترال میں امدادی کارروائیوں کیلئے ابتدائی طور پر
ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر
مزید رقم بھی جاری کی جائیگی۔
مشتاق غنی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 3، 3
لاکھ جبکہ زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے، اسی طرح مکمل
تباہ شدہ مکانات کیلئے ایک لاکھ اور جزوی تباہ شدہ مکانات کیلئے 50 ہزار
روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔
دوسری جانب چیرمین این ڈی ایم اے اصغر نواز کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں
بہہ جانے والوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چترال میں
سیلاب سے متاثرہ علاقے ارسون میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر غذائی اشیا ء اور
طبی سامان لے کر پہنچ چکا ہے جب کہ زخمیوں کو ارسون سے چترال پہنچا دیا
گیا۔