چترال،بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ارسون کے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ارسون کے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ارسون کے
سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔اس سلسلے میں ارسون کے مقام
پر ایک تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی اور سابق
صوبائی وزیر سلیم خان مہما ن خصوصی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اس وادی میں ابھی تک نہ تو سڑک
ہے نہ ا سکول یا کالج اور پوری بستی صحت کی سہولت سے بھی محروم ہے۔ اس وادی
میں بنیادی مرکز صحت تک موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ہفتے گزر گئے مگر ہنوز اس تباہ شدہ وادی کی سڑکیں بحال
ہوئی نہ دیگر انفراسٹرکچر تعمیر ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ اس وادی کی خواتین
دور دراز علاقوں سے مٹکوں میں سروں پر پینے کا پانی لانے پر مجبور ہیں جبکہ
ندی کا پانی پینے سے متعدد بیماریاں پھیلتی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ وہ ان کے مسائل حل
کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گا اور اس ضمن میں کسی بھی قربانی
سے دریغ نہیں کریں گے۔
سلیم خان نے اس موقع پر عوام کے مطالبہ پر جنویش میں ایک پرائمری اسکول،
ارسون کی لنک روڈ کی مرمت کیلئے دس لاکھ روپے، مسجد پیتا سون کی بحالی اور
تعمیر نو کیلئے پانچ لاکھ روپے، پیتا سون کے مدرسہ کی بحالی اور دوبارہ
تعمیر کیلئے پانچ لاکھ روپے اور بجلی بحال کرنے کیلئے ٹرانسفارمر فراہم
کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے یقین دہانی کی کہ وہ اسمبلی کے فلور پر بھی اس علاقے کے مسائل کو
اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بھی سیلاب اور زلزلہ نے چترال کو
تباہ کیا تھا مگر صوبائی حکومت نے ان کو کچھ بھی نہیں دیا ۔ معمولی رقم
فراہم کی گئی جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔
بعدازاں انہوں نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول زردار ی کی جانب سے متاثرین
میں پچاس خیمے، سو کمبل، 150 وکی رضائیاں تقسیم کی جن پر متاثرین نے ان کا
شکریہ ادا کیا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کو یاد
کیا۔اس تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تاہم چند متاثرین نے
شکایت کی کہ اب تک جو امدادی سامان ملا ہے وہ ناکافی ہے اور حکومت کو
چاہئے کہ اس وادی میں زندگی کو معمول پر لانے کیلئے تباہ شدہ انفراسٹرکچر
کو فوری بحال کرے۔