جہلم،زہریلا کیمیکل زدہ دودھ پینے سے شہری بچ گئے،فروخت ہونے کی کوششیں ناکام
جہلم میں اسسٹنٹ کمشنر کنول بتول نے محکمہ صحت سے مل کر جہلم جی ٹی روڈ پر
علی الصبح ناکہ لگا رکھا تھا کہ جہلم شہر کے اندر جو دودھ فروخت ہونے کے
لیے دوسرے اضلاع سے آتا ہے ان کی لیباٹری چیکنگ کی جائے تو شہر کے اند داخل
ہو نے والے دودھ کے ٹرک کو روک کر ان کی چیکنگ کی گئی تو ان ٹرکوں میں
موجود دودھ کے سینکڑوں ڈرم اپنی تحویل میں لے کر ان کی لیبارٹری چیکنگ کی۔
اسسٹنٹ کمشنر کنول بتول کے مطابق اس دودھ میں 70 فیصد پانی کے علاوہ
ڈٹرجنٹ،یوریا موجود ہے جس کی وجہ سے دودھ میں گاڑھا پن آجاتا ہے اور وہ شہر
میں فروخت کر دیا جاتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
ا سسٹنٹ کمشنر کنول بتول نے تمام لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ کے بعد 750 من ملاوٹ شدہ دودھ کو اپنی نگرانی میں دریائے جہلم میں بہا دیا۔