Nov 17, 2016 07:43 pm
views : 958
Location : Pakistan Navy Office
Karachi- Pak China Joint Naval Exercises Press Briefing
کراچی ، پاک بحریہ کے فلیٹ ہیڈکوارٹرز میں مشترکہ میڈیا بریفنگ کا انعقاد
چینی بحریہ کے جہاز ’چینگ شنگ ڈاؤ ‘ (ا وشن سالویج اینڈ ریسکیو شپ) اور
’ہینڈن‘ پاکستان کے خیر سگالی کے دورے پر ان دنوں کراچی میں ہیں۔ پاکستان
میں اپنے قیام کے دوران چینی بحری جہاز پاک بحریہ کے ساتھ چوتھی دوطرفہ
بحری مشقوں میں حصہ لیں گے۔ اس ضمن میں پاک بحریہ کے فلیٹ ہیڈکوارٹرز میں
ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں کمانڈر 18ویں ڈسٹرائر
اسکواڈرن کموڈور مرزا فواد امین بیگ اور چینی بحریہ کے سینئر کیپٹن شی چنگ
تاؤ نے میڈیا کے نمائندوں کو مشقوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کموڈور فو ادنے بتایا کہ یہ اہم مشقیں ہاربر اور سی فیز پر مشتمل ہیں۔
ہاربر فیز اس وقت جاری ہے جس میں باہمی ملاقاتیں، دونوں ممالک کے جہازوں پر
دوروں کے تبادلے ، آپریشنل سرگرمیوں اور دوسرے امور پر بات چیت شامل ہیں۔
مشقوں کا سی فیز بحری جہازوں، ہیلی کاپٹرز، میری ٹائم پٹرول ائیر کرافٹ کے
میری ٹائم اور بحری آپریشنز، اسپیشل فورسزکے جوائنٹ بورڈنگ آپریشنز ، ائیر
ڈیفنس مشقوں، رابطے کی مشقوں اور بحری جہازوں کی جنگی چالوں پر مشتمل ہوگا
جو کہ کھلے سمندر میں منعقد کی جائیں گی۔
مشقوں کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کموڈور فواد نے کہا کہ ان
مشقوں کا مقصد دونوں افواج کی مشترکہ بحری آپریشنز کرنے کی صلاحیت میں
اضافہ کرنا ہے تاکہ ایک محفوظ اور مستحکم بحری ماحول کے قیام میں مدد مل
سکے جو اقتصادی ترقی و خوشحالی اور امن و سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ
مشقیں دونوں اطراف پائی جانے والی اس خواہش کی غماز بھی ہیں کہ دو طرفہ
تعاون کو آپریشنل اور دفاعی سطح پر فروغ دیا جائے۔
کموڈور بیگ نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کی بحری افواج کے درمیان دیرپا
تعلقات قائم ہیں۔ دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ بحری تعاون کی ایک وسیع
تاریخ ہے جو دونوں جانب کے سینئر افسران اور فلیٹ یونٹس کے دوطرفہ دوروں،
بحری جہازوں اور آبدوزوں کی مشترکہ تعمیر، چینی بحریہ کی امن مشقوں میں
باقاعدہ شمولیت ، سالانہ مشترکہ مشقوں اور پاک۔چین بحریہ کی دوطرفہ مشقوں
پر مشتمل ہے۔ چینی بحری جہازوں کا حالیہ دورہ اور مشقیں اس مشترکہ تعاون کی
آئینہ دار ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کموڈور فو
اد نے کہا کہ حکومت پاکستان، اس کی مسلح افواج اور عوام ایک عشرے سے بھی
زائد عرصے سے دہشت گردی کے ناسور سے نبرد آزما ہیں۔ پاکستان نیوی حکومتی
پالیسیوں پر سختی سے عمل پیر ا ہے اور دنیا کے ان اہم بحری راستوں میں امن
وسلامتی کے قیام کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ اس ضمن میں پاک بحریہ کی
کثیر القومی بحری اتحاد سی ٹی ایف 150اور سی ٹی ایف 151میں شمولیت نہایت
اہم ہے۔ اسی طرح چینی بحریہ اپنی ٹاسک فورس کی مسلسل موجودگی کے ذریعے بحر
ہند میں دہشت گردی اور بحری قذاقی کے سد باب کے لیے کوششیں کررہی ہے۔
چینی بحریہ کے سینئر کیپٹن شی چنگ تاؤ نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے
بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان مشترکہ مشقوں سے دونوں ممالک کی بحری افواج کی
پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نکھار پید ا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشقیں
پاک۔ چین اقتصادی راہداری کے تناظر میں بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
پاک بحریہ اور چینی بحریہ کے درمیان یہ مشقیں 21نومبر تک جاری رہیں گی اور
یقینی طور پر ان بحری مشقوں کا انعقاد گوادر پورٹ پر سرگرمیوں اور کمرشل
بحری جہازوں کی آمدو رفت کو تحفظ دینے کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرنے میں
معاون ثابت ہوگا۔